نُورِ ہدایت — Page 906
کہہ سکتا تھا کہ یہ شہر ہمیشہ محفوظ رہے گا اور اللہ اسے امن والا بنائے گا۔اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے یہ تمام باتیں ناممکن تھیں۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مکہ شہر بنے گا۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مکہ محفوظ رہے گا۔مگر اصحاب الفیل کے حملہ کے وقت وہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا کہ مکہ ایک شہر بنے گا اور شہر بھی ایسا جو دشمن کے حملہ سے محفوظ رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کر کے دکھا دیا۔ا مگر سوال یہ ہے کہ اصحاب الفیل کو اس وقت تک کس نے حملہ کرنے سے روکے رکھا تھا؟ آخر کونسی طاقت تھی جو اس عرصہ دراز میں مکہ کی محافظ رہی۔حضرت ابراہیم اور اصحاب الفیل کے واقعہ کے درمیان کوئی 28 سو سال کا فرق تھا۔یا بعض روایتوں کے لحاظ سے 22 سو سال کا فرق تھا۔دو ہزار دوسو یا دو ہزار آٹھ سو سال تک مکہ پر کوئی حملہ نہیں کرتا۔دو ہزار دو سو سال تک مکہ کے گرانے کی خواہش کسی کے دل میں پیدا نہیں ہوتی۔دو ہزار دوسوسال تک خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کا جوش کسی کے دل میں پیدا نہیں ہوتا۔نہ کسی یہودی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے۔نہ کسی عیسائی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے۔نہ کسی اور حکومت کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے۔اس عرصہ میں شمور کی حکومت آئی ، عاد کی حکومت آئی۔یہ بڑی بڑی حکومتیں تھیں اور ان کی طاقت بہت زیادہ تھی مگر کسی کو یہ خیال پیدا نہ ہوا کہ وہ خانہ کعبہ پر حملہ کرے۔لیکن ادھر ربیع الاول میں محمد رسول اللہ علیم پیدا ہوتے ہیں اور ادھر دو ماہ پہلے ابر ہ حملہ کر دیتا ہے۔اور اس وقت خدا یہ نشان ظاہر کرتا ہے کہ وہ ابر ہ اور اس کے لشکر کو تباہ کر دیتا ہے۔اتنی مدت تک کسی کو خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کا خیال نہ آنا اور اُس وقت آنا جب محمد رسول الله علا تعلیم پیدا ہونے والے تھے بتاتا ہے کہ یہ شیطان کی طرف سے اُس وقت آخری حملہ تھا تا کہ پیشتر اس کے کہ اس انسان کا ظہور ہو جو دعائے ابراہیمی کے ماتحت پیدا ہونے والا تھا یہ جگہ ہی مٹا دی جائے اور ابراہیمی پیشگوئی کا دنیا میں ظہور نہ ہو۔بہر حال اس پیشگوئی کا پورا ہونا اور ایسے حالات میں پورا ہونا جو بالکل مخالف تھے اور ایسے وقت میں پورا ہونا جب محمد 906