نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 904 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 904

سامانوں سے بہت دُور تھے۔بیشک ان میں بعض دولتمند بھی تھے مگر دنیا کی دولت کے مقابلہ میں ان کی دولت ایسی ہی تھی جیسے کسی احمدی کے پاس اگر لا کھ دولاکھ روپے ہوں تو وہ اپنے آپ کو بہت بڑا امیر سمجھ لیتا ہے۔حالانکہ یورپ کے کئی کارخانہ دار ایسے ہیں جن کے ملازموں کے ملازموں کے پاس اس سے زیادہ دولت ہوتی ہے۔مکہ کی دولت بھی اس وقت کی معلومہ دنیا کی دولت کے مقابلہ میں بالکل حقیر تھی اور یہ جو کچھ ہوا اللہ تعالی کی حکمت کے ماتحت ہوا۔اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ مکہ میں ایک ایسی قوم بسادے جو دولتمند دنیا اور عیش والی دنیا سے الگ رہتے ہوئے انسانی جوہروں کو قائم رکھ سکے۔چنانچہ محمد رسول اللہ ایم کی کامیابی کا ایک بڑا ذریعہ یہی تھا کہ آپ کو عرب قوم مل گئی جس نے قربانی اور ایثار کا وہ نمونہ دکھایا جس کی مثال دنیا کے پردہ پر نہیں مل سکتی۔انہوں نے جس رنگ میں اپنی جانوں کی قربانی پیش کی ہے اس کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔اس طرح وہ قوم اسلام کے پھیلنے اور اس کی اشاعت کا ایک ذریعہ بن گئی۔بہر حال خانہ کعبہ کی بنیاد رکھتے وقت اور اپنی اولاد کو وہاں بساتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی طاقت اور قوت حاصل نہیں تھی۔اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب یہ خبر دی کہ خدا ایک نبی کو میری اولاد میں مبعوث کرے گا جو دنیا کے لئے مرجع ہو جائے گا اور جب انہوں نے دعا کی کہ الہی دنیا کے چاروں طرف سے لوگ یہاں آئیں اور حج کریں اور عبادت اور ذکر الہی میں اپنا وقت گزاریں اور تیرا نام بلند کریں اور تسبیح و تحمید کریں تو کیا انہیں طاقت حاصل تھی کہ وہ لوگوں کو کھینچ لاتے؟ وہ تو خود اپنی بیوی اور بچے کو وہاں مرنے کے لئے چھوڑ گئے تھے انہوں نے کسی اور کو کیا لا نا تھا؟ مگر پھر خدا نے مکہ کی آبادی کے کیسے سامان کئے اور ان کی دعا کو کس حیرت انگیز رنگ میں پورا فرمایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب واپس چلے گئے تو چند دنوں کے بعد پانی ختم ہو گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے تڑپنے لگے۔ماں سے اپنے بچہ کی حالت دیکھی نہ گئی تو انہوں نے صفا ومروہ پر چڑھ کر دیکھنا 904