نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 894 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 894

مانگ لیں۔انہوں نے کہا کہ میری سو اونٹنیاں تمہارے آدمیوں نے پکڑی ہیں وہ واپس بھیج دو۔تب اس بادشاہ نے حقارت کی نظر سے عبد المطلب کو کہا کہ تمہیں اپنی اونٹنیوں کی فکر لگ رہی ہے اور ہم تمہارے اس معہد کو تباہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔عبدالمطلب نے کہا کیا ہمارا مولی جو ذرہ ذرہ کا مالک ہے جب یہ معبد اُسی کے نام کا ہے اور اسی کی طرف منسوب ہے، وہ اس کی حفاظت نہیں کرے گا؟ اگر وہ اپنے معبد کی خود حفاظت نہیں کرنا چاہتا تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔آخر اس بادشاہ کے لشکر میں خطرناک و با پڑی اور چیچک کا مرض جو حبشیوں میں عام طور پر پھیل جاتا ہے ان پر حملہ آور ہوا اور اوپر سے بارش ہوئی۔اور اس وادی میں سیلاب آیا۔بہت سارے لشکری بلاک ہو گئے اور جیسے عام قاعدہ ہے کہ جب کثرت سے مردے ہو جاتے ہیں۔اور ان کو کوئی جلانے والا اور گاڑنے والا نہیں رہتا تو ان کو پرندے کھاتے ہیں۔اُن موذیوں کو بھی اسی طرح جانوروں نے کھایا۔یہ کوئی پہیلی اور معمنا نہیں۔تاریخی واقعہ ہے۔ماخوذ از حقائق الفرقان۔زیر تفسیر سورۃ الفیل ) حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : للا سورۃ الفیل مکہ میں نازل ہوئی۔اس سورۃ کا تعلق پہلی سورۃ سے ایک تو اس لمبے تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے۔یعنی قرآن کریم کی یہ آخری سورتیں سوائے چند آخری سورتوں کے باری باری اسلام کے ابتدائی زمانہ کے متعلق اور اسلام کے آخری زمانہ کے متعلق آتی ہیں۔ایک سورۃ میں اسلام کے ابتدائی زمانہ کا خصوصیت سے ذکر ہوتا ہے اور دوسری سورۃ میں اسلام کے آخری زمانہ کا خصوصیت سے ذکر ہوتا ہے۔میری یہ مراد نہیں کہ جس سورۃ میں اسلام کے ابتدائی زمانہ کا ذکر آتا ہے اس میں آخری زمانہ کا ذکر نہیں ہوتا اور نہ یہ کہ جس سورۃ میں اسلام کے آخری زمانہ کا ذکر آتا ہے اس میں ابتدائی زمانہ کا ذکر نہیں ہوتا۔بالعموم دونوں ہی ذکر ہوتے ہیں۔لیکن خصوصیت کے ساتھ ایک سورۃ میں مد نظر اسلام کا ابتدائی زمانہ ہوتا ہے اور دوسری سورۃ میں 894