نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 893 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 893

فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ عضفٍ مأْكُولٍ کے معنے خوید پس خوردہ کے ہیں۔چڑیاں ان کی لاشوں کو نوچ کر لے جاتیں اور پہاڑوں میں کھاتیں۔عربی میں ایسے محاورات بکثرت ہیں اور انہی معنوں اور استعاروں میں پرندوں کے الفاظ وہاں مستعمل ہوتے ہیں چنانچہ النابغة الذبیانی کا شعر ہے ع إِذَا مَا غَرَا بِجَيْشِ حَلْقَ فَوْقَهُمْ عَصَائِبُ طَيْرٍ تَهْتَدِى بِعَصَائِبِ جب وہ لشکر لے کر دشمنوں پر چڑھتا تو پرندوں کے غولوں کے غول دشمنوں کی لاشوں کے کھانے کو جمع ہو جاتے ہیں۔اسی قسم کے انداز بیان میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اشارہ کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بلاک کئے جاویں گے۔جیسے فرماتا ہے : أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَتٍ فِي جو السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (النحل 80) کیا وہ ان پرندوں کے حالات پر غور نہیں کرتے۔جنہیں ہم نے آسمان کی جو میں قابو کر رکھا ہے۔ہم ہی نے تو انہیں تھام رکھا ہے ( اور ایک وقت آنے والا ہے کہ انہیں نبی کریم کے دشمنوں کی لاشوں پر چھوڑ دیں گے ) مومنوں کے لئے ان باتوں میں نشان ہیں۔یہاں بھی پہلے ایک شریر قوم کا بیان کیا ہے۔جو بڑی نکتہ چینی کی عادی اور موذی تھی اور اسلام کو عیب لگاتی تھی۔اور بہت سے اموال جمع کر کے فتح کے گھمنڈ میں مکہ پر انہوں نے چڑھائی کی۔یہ ایک حبشیوں کا بادشاہ تھا۔جس نے اسی سال مکہ معظمہ پر چڑھائی کی جبکہ حضرت رحمتہ للعالمین نبی کریم پیدا ہوئے۔جب یہ شخص وادی محضر میں پہنچا۔اس نے عمائد مکہ کو کہلا بھیجا کہ کسی معرب ز آدمی کو بھیجو۔تب اہل مکہ نے عبدالمطلب نامی ایک شخص کو بھیجا جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے۔جب عبدالمطلب اس ابرهه نام بادشاہ کے پاس پہنچے۔وہ مدارات سے پیش آیا۔جب عبد المطلب چلنے لگے اس نے کہا کہ آپ کچھ 893