نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 895 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 895

خصوصیت کے ساتھ مڈ نظر اسلام کا آخری زمانہ ہوتا ہے۔پس یہ سورتیں خصوصیت کے لحاظ سے ابتدائی یا آخری زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔یہ نہیں کہ پہلے اور دوسرے زمانہ کا اکٹھا ذ کر نہیں ہوتا۔بسا اوقات بڑے زور سے ہوتا ہے۔مگر وہ مقصود اول نہیں ہوتا۔مقصود اول صرف ایک ذکر ہوتا ہے اور یہ دور باری باری چلتا ہے۔اس لحاظ سے سورۃ الفیل آخری زمانہ کے متعلق معلوم ہوتی ہے یعنی اس میں خصوصیت کے ساتھ آخری زمانہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔گو ذکر اس میں پہلے زمانہ کا ہے مگر مقصودآخری زمانہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔قریبی ترتیب کے لحاظ سے اس سورۃ کا تعلق پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں یہ بتایا گیا تھا کہ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَزَةٍ۔عیب چینیاں کرنے والے، دوسروں کو نقصان پہنچانے والے اور تکلیفیں دینے والے لوگ جو اپنے مال اور دولت پر گھمنڈ کرتے ہیں وہ تباہ اور برباد کئے جائیں گے۔یہ حکم تو عام تھا کیونکہ فرماتا ہے وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ أُمَزَةٍ۔ہر ایسے شخص پر عذاب آئے گا جو هُمَزَةٍ اور لُمَزَةٍ ہو گا لیکن مقصود اول اس میں رسول اللہ علی ایم کے مخالف تھے۔رسول کریم عالم کے زمانہ میں آپ کے دشمن مالدار تھے، دولتمند تھے، ان کی بڑی بڑی تجارتیں تھیں ، بڑی بڑی جائیداد میں تھیں۔تمام ملکی اقتدار ان کے قبضہ میں تھا اور وہ اپنے مال و دولت اور رتبہ کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ ان طاقتوں اور قوتوں کی وجہ سے محمد رسول اللہ علیم اور ان کے ساتھی کسی صورت میں بھی ان پر غالب نہیں آ سکتے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے تمہارا یہ خیال کہ محمد رسول اللہ الایی تم پر غالب نہیں آ سکتے قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔محمد رسول اللہ صلی ضرور غالب آئیں گے اور تم لوگ جو بڑے کہلاتے ہو اور مال و دولت کے غلط استعمال کی وجہ سے غریبوں کو ستاتے اور دکھ دیتے ہو نا کام ونامرادر ہو گے۔غرض اس سورۃ میں یہ خبر دی گئی تھی کہ یہ لوگ بڑے دکھ میں بتلا ہوں گے۔ان کی تباہی کامل ہوگی اور ان کا انجام نہایت دردناک ہو گا۔یہاں قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا تھا کہ ایسا کس طرح ہوگا ؟ عقل میں تو یہ نہیں آسکتا کہ 895