نُورِ ہدایت — Page 815
سامان پیدا ہوتے رہیں گے۔ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ اسلام ہمیشہ کے لئے مغلوب ہوجائے اور کفر کو غلبہ حاصل ہو جائے۔گویا حفاظت اسلام کا وعدہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بشارت دی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائید ہمیشہ اس مذہب کے ساتھ ہوگی اور وہ ہمیشہ تنزل کے بعد اس کی ترقی کے سامان پیدا کرتا رہے گا۔دو کے لفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں بعثت محمدی اور بعثت احمدی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ اس زمانے میں کفر نے خاص جوش مارا ہے مگر ہم اس کفر کو توڑنے کے لئے محمد رسول عالم کی دو روحانی بعثتیں کریں گے تا اس کا زور بالکل ٹوٹ جائے۔فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ پس جب ( بھی ) تو فارغ ہو تو ( دوسرے مقصد کے حصول کے لئے ) پھر کوشش میں لگ جا۔فرغ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔جب فرغ مِنَ الْعَمَلِ کہیں تو اس کے معنی ہوتے ہیں خَلا ذَرْعَہ وہ کسی کام سے فارغ ہو گیا اور جب فَرغَ لَهُ وَالَيْهِ کہیں تو معنی ہوتے ہیں قَصَدَ اس نے کسی چیز کا ارادہ کیا۔نیز کہتے ہیں فَرَغَ فُلانٌ فَرُوعًا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ مات۔فلاں شخص مر گیا۔اور جب برتن کے لئے فرغ کا لفظ بولیں تو اس کے معنی ہوتے ہیں کھلا۔خالی ہو گیا۔نیز فرغ کے معنی کسی کام کو پورا کر دینے کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ کہتے ہیں فرغ فلان من الشّيئي: اتمے کہ فلاں نے کام کو ختم کر دیا ( اقرب) فَانْصَبْ نَصِبَ يَنْصَب سے امر کا صیغہ ہے اور نَصِبَ الرّجُلُ نَصْبا کے معنی ہوتے ہیں آغیا۔وہ تھک گیا۔اور نصب فی الآمر کے معنی ہوتے ہیں جدو اجتہد اس نے محنت اور کوشش کی ( اقرب) یہاں فانصب کے معنی محنت اور جد وجہد کرنے کے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَب جب تو فارغ ہو جائے تو پھر جد و جہد میں مشغول ہو جا۔م یہاں ایک عجیب بات بیان کی گئی ہے۔بظا ہر فراغت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ مشکل دُور ہوگئی اور کام ختم ہو گیا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تو فارغ ہو جائے تو پھر محنت میں 815