نُورِ ہدایت — Page 816
مشغول ہو جا۔پس سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب فارغ ہونے کے بعد بھی محنت میں ہی مشغول رہنا ہے تو پھر فراغت کیسی ہوئی ؟ ما در حقیقت اس میں اسلام کی ترقی کے متعلق پیشگوئی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ کتنا بلند مقصد ہے جو ہم نے اپنے رسول کے سامنے رکھا ہے۔بعض دفعہ دنیا میں یکدم کوئی تغیر پیدا ہو جاتا ہے مگر وہ دیر پا نہیں ہوتا بلکہ جلد ہی رُو بہ زوال ہو جاتا ہے۔لیکن بعض تغیرات ایسے ہوتے ہیں جو گو تدریجاً پیدا ہوتے ہیں مگر ایک لمبے عرصہ تک دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دیتے ہیں۔اللہ تعالی محمد رسول اللہ علم کو فرماتا ہے کہ تیری ترقی گو تدریجی ہو گی مگر تیری کوششوں کے نتائج مستقل اور دیر پا ہوں گے۔پہلے ایک مشکل تمہارے سامنے آئے گی اور جب تم اس کو ڈور کر لو گے اور اپنے پہلے مقام سے اونچے ہو جاؤ گے تو پھر دوسری مشکل پیش آ جائے گی۔اس وقت تمہارا فرض ہوگا کہ اس دوسری مشکل کو دور کرو اور اپنے مقام سے اور اونچے ہو جاؤ۔جب وہ مشکل بھی حل ہو گئی تو ایک تیسری مہم تمہارے سامنے آجائے گی اس وقت تمہارا فرض ہوگا کہ اس تیسری مہم کو سر کرو اور اپنے مقام سے اور اونچے ہو جاؤ۔گویا ایک دور ہے جو چلتا چلا جائے گا اور غیر متناہی ترقیات ہیں جو تمہارے سامنے آتی چلی جائیں گی۔کوئی وقت اور کوئی لمحہ تمہاری زندگی میں ایسا نہیں آسکتا جب تم یہ خیال کرلو کہ میں اپنا کام ختم کر چکایا میں نے جس بلندی پر پہنچنا تھا پہنچ گیا۔۔۔۔چونکہ رسول کریم علیم کے سپر داللہ تعالی کی طرف سے جو علمی اور عملی کام کیا گیا تھا اس کی کوئی انتہا نہیں تھی اس لئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔اے محمد رسول اللہ ہم نے تیرے لئے کوئی محدود مقصود مقرر نہیں کیا بلکہ غیر معمولی ترقیات کا دروازہ تیرے لیے کھولا گیا ہے۔جب تو کسی ایک مہم کو سر کر لے تو سمجھ لے کہ ابھی اس سے اوپر کی مہم کو تو نے سر کرنا ہے۔اور جب دوسری مہم بھی سر ہو جائے تو تو سمجھ لے کہ تیسری مہم تیرے سامنے کھڑی ہے اور تیرا فرض ہے کہ تو اس کو بھی سر کرے۔غرض تو نے بلندیوں کی طرف اپنے پورے زور کے ساتھ بڑھتے چلے جانا ہے اور کسی ایک مقام پر 816