نُورِ ہدایت — Page 814
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ہمارے رسول ! بیشک آج دنیا تیرے ساتھیوں کو سخت سے سخت تکالیف پہنچارہی ہے مگر ہم عنقریب ان کو دونوں قسم کے اطمینان دینے والے ہیں۔پہلا اطمینان جوان کو میسر آئے گاوہ ذہنی ہو گا۔یعنی تیری جماعت کا ہر فرد ذہنی لحاظ سے اس بات پر مطمئن ہوگا کہ اس نے سچائی کو قبول کیا ہے، راستی کو اختیار کیا ہے، نجات کے طریق کو پسند کیا ہے۔یہ خلش اور ڈبدہ اس کے اندر نہیں ہوگا کہ نہ معلوم جس راہ پر میں چل رہا ہوں وہ خدا تک انسان کو پہنچاتا ہے یا نہیں پہنچا تا۔اس کے بعد خارجی لحاظ سے بھی ہم ان کے اطمینان کے سامان پیدا کردیں گے یعنی دشمن کی تکالیف کا سلسلہ جاتا رہے گا۔ان کو کامیابی حاصل ہو جائے گی اور و تنگی جو آج محسوس کی جارہی ہے بالکل دور ہو جائے گی۔گویا وہ دو ٹیسر ہیں جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔وہ ذہنی اور خارجی اطمینان کے سامان ہیں۔یعنی ہم قوم کو با ایمان بنانے کے لئے اس کے تمام شکوک وشبہات کو مٹا کر اسے یقین کی ایک مضبوط چٹان پر کھڑا کر دیں گے اور خارجی لحاظ سے ان تمام مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کر دیں گے جو دشمن کی طرف سے انہیں پیش آرہی ہیں اور وہ غالب اور بادشاہ ہو جائیں گے جس کی وجہ سے کوئی انہیں جسمانی عذاب نہ دے سکے گا۔دوسرے معنے دنیوی اور اخروی انعامات کے ہیں۔یعنی تمہیں دنیا کے بھی انعامات ملیں گے اور آخرت کے انعامات بھی تمہیں عطا کئے جائیں گے۔اگر کوئی کہے کہ اُخروی انعامات کے ملنے کا کیا ثبوت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ رؤیا و کشوف اور الہامات جن سے اللہ تعالیٰ کے مومن بندے اس دنیا میں اپنی استعداد کے مطابق حصہ لیتے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ اللہ تعالی کی طرف سے اخروی نعماء کے متعلق جو کچھ کہا جارہا ہے وہ بالکل درست ہے۔حمد اس آیت کے یہ بھی معنی ہیں کہ جب کبھی اسلام پر تنگی اور مصیبت کا زمانہ آئے گا اللہ تعالیٰ اس کے بعد ترقی کا ایک نیا دور پیدا کر دیا کرے گا۔گویا اسلام کے ایک دفعہ قائم ہو جانے اور اس کے ہلاکت سے بچ جانے کے بعد ہر موقع پر اس کی ترقی کے نئے سے نئے 814