نُورِ ہدایت — Page 805
رسول کریم علیم کے سینہ پر نشان تھا تو اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ یہ ظاہری واقعہ تھا۔یا ظاہر میں انسانی قلب پر کوئی میل ہوتی ہے جسے دھونے کی ضرورت ہوتی ہے۔غرض یہ غلط ہے کہ یہ ایک ظاہری واقعہ تھا جو رسول کریم ملایم کے ساتھ گزرا۔یہ ظاہری واقعہ نہیں بلکہ ایک کشف تھا جو رسول کریم علیم کو دکھایا گیا۔ہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کی عظمت کے اظہار کے لئے اور آپ کے رضاعی خاندان کے دل میں آپ کی محبت پیدا کرنے کے لئے ایسا تصرف کیا کہ حلیمہ کے بیٹے نے بھی اس واقعہ کو دیکھ لیا۔اور اس کی گواہی سے سب پر یہ اثر ا ہوا کہ یہ غیر معمولی واقعہ بتا رہا ہے کہ یہ لڑکا ایک دن بہت بڑی عظمت اور شان حاصل کرے گا۔پھر یہ بتانے کے لئے کہ یہ کشف واقعہ میں ہم نے دکھایا تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینہ پر بھی نشان پیدا کر دیا تا کہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے اس نشان کے گواہ رہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گرتے پر سرخ روشنائی کے قطرات اللہ تعالیٰ نے اس لئے ڈالے تا کہ اور لوگ بھی اس نشان کے گواہ رہیں۔گومعتبر روایتوں میں یہ ذکر نہیں آتا کہ رسول کریم میایم کے سینہ پر نشان تھا۔مگر ہمیں اس کو تسلیم کرنے سے انکار کی خاص ضرورت نہیں۔اگر روشنائی کے نشان اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں پر پیدا کر سکتا ہے تو اس کشف کی تصدیق کے لئے اگر اللہ تعالی نے رسول کریم علایم کے سینہ پر کوئی نشان پیدا کر دیا ہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔پس جس حد تک اس واقعہ کو کشفی ماننے کا تعلق ہے ہمیں اس کی صحت سے ہرگز انکار نہیں۔لیکن جس حد تک اس واقعہ کو ماڈی قرار دینے کا سوال ہے ہمارے نزدیک یہ بات عقل کے خلاف ہے۔ورنہ جیسا کہ احادیث میں آتا ہے ماننا پڑے گا کہ جب کوئی شخص بُرا کام کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نشان پڑ جاتا ہے اور جب اچھا کام کرتا ہے تو اس کا دل اعلیٰ حالت میں رہتا ہے۔حالانکہ یہ بات واقعات کے خلاف ہے۔نعشوں کو چیر نے پھاڑنے اور مختلف امراض کے نتیجے میں انسانی جسم میں جو تغیرات واقع ہوتے ہیں ان کو دیکھنے بھالنے کا کام اس زمانے میں بہت ترقی پر ہے۔لاکھوں نعشیں اب تک چیری جاچکی ہیں اور 805