نُورِ ہدایت — Page 804
دوسرے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ساری غلطی مسلمانوں کو اس وجہ سے لگی ہے کہ حلیمہ کے بیٹے نے بھی یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔وہ کہتے ہیں اگر یہ ظاہری واقعہ نہیں تھا تو حلیمہ کے بیٹے نے کس طرح دیکھ لیا ؟ حالانکہ اگر صحابہ جبرائیل کو دیکھ سکتے ہیں تو حلیمہ کا بیٹا رسول کریم سلام کے اس کشفی واقعہ کو کیوں دیکھ نہیں سکتا۔رض حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم بیلی کے پاس آیا اور اس نے آپ سے مختلف سوالات کئے جن کے آپ نے جوابات دیے۔جب وہ چلا گیا تو رسول کریم مال لا میں نے صحابہ سے پوچھا جانتے ہو یہ کون تھا؟ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! ہمیں تو معلوم نہیں۔خدا اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔رسول کریم علی علیہ نے فرمایا یہ جبرائیل تھا جو تمہیں علم سکھانے کے لئے آیا۔اب دیکھو جبرائیل رسول کریم علی ایم کے پاس آیا مگر صحابہ نے بھی دیکھ لیا۔پس کئی ایسے کشفی نظارے ہوتے ہیں جن میں ساتھ کے لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ مادی واقعہ ہوتا ہے۔پھر معلوم نہیں وہ صرف چھری کو مادی کیوں قرار دیتے ہیں۔فرشتے کو بھی کیوں مادی نہیں سمجھ لیتے۔مگر وہ فرشتے کو تو روحانی قرار دیتے ہیں اور چھری کو مادی قرار دیتے ہیں۔اگر آدھی روحانی چیز تھی تو آدھی ماڈی کیوں ہو گئی ؟ وہ کہتے ہیں اس واقعہ کے مادی ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ رسول کریم ملایم کے سینہ پر اس کا نشان تھا۔ہم کہتے ہیں اگر نشان تھا تب بھی یہ اس واقعہ کے مادی ہونے کا ثبوت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدائے تعالیٰ نے ایک نشان دکھایا جس کے نتیجہ میں آپ کے کپڑوں پر سرخ روشنائی کے بعض نشانات آگئے مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ یہ ظاہری واقعہ تھا۔تھا تو یہ کشفی واقعہ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کشف کی صداقت کے لئے ظاہر میں بھی روشنائی پیدا کر دی یہ بتانے کے لئے کہ میں قادر مطلق خدا تمہیں یہ نظارہ دکھا رہا ہوں۔پس گو یہ واقعہ مادی نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر میں اس کا نشان پیدا کر دیا۔اس طرح اگر 804