نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 806 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 806

تشریح الابدان کے ماہرین نے ان تمام تغیرات کا پوری طرح جائزہ لے لیا ہے جو امراض کے نتیجے میں انسانی جسم میں واقع ہوتے ہیں۔اگر اس نظریہ کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ برے کام کے نتیجے میں قلب پر مادی شکل میں سیاہی چھا جاتی ہے اور اچھے کام کرنے کے نتیجہ میں قلب پر مادی شکل میں نور آجاتا ہے تو کئی مسلمانوں کو کافر اور کئی کافروں کو مسلمان قرار دینا پڑے گا۔وہ مسلمان جو دم گھٹ کر مر جاتے ہیں ان کے دل یقینا کالے ہوں گے اور وہ ہندو اور سکھ جن کے تنفس پر بیماری کا اثر نہیں ہوتا ان کے دل یقینا اچھی حالت میں ہوں گے۔ایسی حالت میں ہمیں روزانہ کافروں کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر قرار دینا پڑے گا اور یہ حقیقت کے خلاف ہے۔در حقیقت رسول کریم مالی نے جو کچھ دیکھا وہ ایک کشف تھا۔کشفی حالت میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کا سینہ چاک کر کے آپ کا دل نکالا اور اسے دھودھا کر پھر اندر رکھ دیا۔بیشک ظاہر میں اس واقعہ کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا مگر خواب یا کشف کی حالت میں اس قسم کے واقعہ کو تسلیم کرنا ہر گز بعید از قیاس نہیں۔غرض عام مسلمانوں کو تمام دھو کا کشف کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے لگا ہے ورنہ کشفی حالت میں دل پر سیاہی بھی دیکھی جاسکتی ہے اور کشفی حالت میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ دل میں نور بھر دیا گیا ہے۔فرق صرف یہ ہوگا کہ اگر جھوٹی خواب ہو تو گو انسان بہت کچھ دیکھتا ہے مگر اسے ملتا کچھ نہیں۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی خواب دکھایا جائے تو فوراً انسان کو اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام بھی مل جاتا ہے۔قادیان میں ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ مرزا صاحب کو بھی بے شک الہام ہوتا ہے کہ تجھے ہم نے بڑا درجہ دیا ہے مگر مجھے بھی خدا تعالیٰ روزانہ کہتا ہے کہ تو موسیٰ ہے، توعیسی ہے، تو محمد ہے۔لوگوں نے اسے بہت کچھ سمجھایا مگر وہ نہ مانا۔آخر کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں اس کا ذکر کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اسے ہمارے پاس لاؤ یا آپ نے فرمایا اس سے سوال کرو ( مجھے اس وقت اچھی طرح یاد نہیں ) کہ جب خدا تم سے کہتا ہے کہ تم عیسی ہو تو کیا عیسی کی طرح تمہیں خلق طیر کا نشان بھی ملتا 806