نُورِ ہدایت — Page 803
جب ان کو آنا پڑا تو وہ چھری بھی اپنے ساتھ لے آئے جس سے انہوں نے رسول کریم علی ایم کا سینہ چاک کیا۔پس یہ روایت عقل کے بالکل خلاف ہے۔کروڑوں کروڑ کام دنیا میں فرشتے کرتے ہیں مگر کبھی اس رنگ میں انہوں نے اپنے فرائض کو سر انجام نہیں دیا۔پس اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عملی طور پر ایسا ہوا تھا تب بھی اس کے لئے پیٹ کو چاک کرنے کی ضرورت تسلیم نہیں کی جاسکتی۔اور نہ چھریوں کی حاجت تسلیم کی جاسکتی ہے۔درحقیقت اس غلطی کی بنا یہ ہے کہ اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف یہ خیال کرلیا گیا ہے کہ فرشتے ان مادی اشیاء کے محتاج ہوتے ہیں۔حالانکہ یہ بات ایسی ہے جس کو دوسرے مقامات پر خود مسلمان ہی تسلیم نہیں کرتے۔حدیثوں میں صاف طور پر ذکر آتا ہے کہ جب جنین رحم مادر میں ہوتا ہے تو فرشتہ ماں کے پیٹ میں جاتا اور اس میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے۔مگر کیا کسی نے دیکھا ہے کہ کبھی عورت کا پیٹ فرشتوں نے چاک کیا ہو؟ وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ بیشک سب کام فرشتے کرتے ہیں مگر وہ پیٹ چاک کرنے کے محتاج نہیں ہوتے۔جب وہ وہاں چھریوں کی ضرورت تسلیم نہیں کرتے تو اس واقعہ کو کیوں ظاہری شکل دی جاتی ہے اور کیوں رسول کریم عالم کا سینہ ظاہری طور پر چاک کیے جانے پر زور دیا جاتا ہے؟ ہم مانتے ہیں کہ فرشتوں نے آپ کا سینہ چاک کیا اور ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے دل کی صفائی کی مگر ہم ساتھ ہی یہ بھی مانتے ہیں کہ انہوں نے اسی طرح آپ کا سینہ چاک کیا اور اسی طرح آپ کا دل نکال کر دھو یا جس طرح وہ جگر بناتے ہیں، تلی بناتے ہیں، دل اور پھیپھڑ بناتے ہیں۔جس طرح وہاں وہ انسان کا دل اور جگر بناتے ہیں۔اسی طرح یہاں بھی انہوں نے رسول کریم علیم کا دل نکالا۔اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ بات ایسی ہے جسے ہم بھی تسلیم کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلیم نے یہ ایک کشف دیکھا تھا اور کشفی نظارہ بعض دفعہ 803