نُورِ ہدایت — Page 802
میں سمجھتا ہوں جس رنگ میں مسلمان اس واقعہ کو پیش کرتے ہیں اگر وہ زیادہ غور سے دیکھتے تو یہ آپ کی شان کو بڑھانے والے معجزہ کی بجائے آپ کی تنقیص کرنے والا معجزہ بن جاتا ہے۔اول تو یہ سوال ہے کہ دل پر کونسی مادی آلائشیں ہوتی ہیں جنہیں صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے؟ جولوگ جنوں اور بھوتوں کے قائل ہیں وہ بھی اتنی معقولیت سے کام لیتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ فلاں جن نے فلاں کا دیکھتے ہی کلیجہ کھا لیا۔وہ جنات کی ماہیت کے لحاظ سے سمجھتے ہیں کہ انہیں چیر نے پھاڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی یونہی دیکھتے اور دوسرے کا کلیجہ نکال کر چبا جاتے ہیں۔اگر جنات کے متعلق بعض نہایت ضعیف العقیدہ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جن پیٹ چیرنے کے محتاج نہیں ہوتے تو فرشتوں کے متعلق کیوں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ وہ چیرنے پھاڑنے کے محتاج ہیں۔اگر دل بنانے کے لئے فرشتے کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔اگر پھیپھڑا بنانے کے لئے وہ کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔اگر جگر اور معدہ بنانے کے لئے وہ کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔اگر تلی بنانے کیلئے وہ کسی کا پیٹ پھاڑنے کے محتاج نہیں۔اگر دماغ بنانے کے لئے وہ کسی کا سر پھاڑنے کے محتاج نہیں تو وہ دل کو صاف کرنے کے لئے کسی کا سینہ چاک کرنے کے کیوں محتاج ہو گئے ؟ جس طرح وہ پیٹ چیرے بغیر انسان کے اندر گھس گئے تھے اور انہوں نے دل اور دماغ اور معدہ اور جگر وغیرہ بنا دیا اسی طرح وہ سینہ کو چیرے بغیر رسول کریم علی اللہ کا ول بھی صاف کر سکتے تھے۔پھر سوال یہ ہے کہ آیا فرشتوں کو چھریوں کی ضرورت ہوتی ہے؟ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں، پہاڑوں ، دریاؤں اور دوسری سب چیزوں کے بنانے میں خدا تعالیٰ کے ملائکہ بھی ایک علت کے طور پر کام کرتے ہیں مگر جب وہ پہاڑ اور دریا وغیرہ بناتے ہیں تو نہ انہیں ہتھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ آری کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کدالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ بغیر ان مادی ہتھیاروں کے یہ تمام کام سر انجام دے دیتے ہیں۔پھر وجہ کیا ہے کہ اور جگہ تو انہیں کسی ہتھیار کی ضرورت نہیں پڑتی مگر رسول کریم علی ایم کے دل کی صفائی کے لئے 802