نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 786 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 786

بیٹوں نے کہا إِنَّ أَبَانَا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (یوسف 9) ہمارا باپ کھلی کھلی ضلال میں مبتلا ہے۔اس میں ضلال کے معنے گمراہی کے نہیں بلکہ اشارة الى شَغَفِهِ بِيُوْسُفَ وَشَوْقِهِ إِلَيْهِ۔اس میں ان کی اس محبت اور شوق ملاقات کی طرف اشارہ ہے جو وہ حضرت یوسف کے متعلق اپنے دل میں رکھتے تھے۔گویا ضلال کے ایک معنے کمال درجہ کی محبت اور انتہا درجہ کے شوق کے بھی ہیں اسی طرح قرآن کریم میں جو آتا ہے قَد شَغَفَهَا حُنَّا إِنَّا لَنَرُهَا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (يوسف (31) اس میں بھی ضلال کے معنے بے انتہا محبت کے ہیں۔غرض ضلال کا لفظ جہاں اور معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے وہاں اس کے ایک معنے انتہا درجہ کی محبت کے بھی ہوتے ہیں۔پہلے معنے تو اس آیت کے یہ ہیں کہ تمہیں ہمارا راستہ معلوم نہ تھا ہم شریعت سے بے خبر تھے، تمہیں معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے کیا ذرائع ہیں۔ایسی حالت میں ہم نے اپنی شریعت تم پر نازل کی اور تمہیں اپنی طرف آنے کا راستہ دکھا دیا۔آپ کا پہلے اس کو چہ سے ناواقف ہونا ہر گز قابل اعتراض امر نہیں۔ہر صاحب شریعت نبی پر جب خدا تعالیٰ کی وحی نازل ہوتی ہے تب اسے شرعی راستہ کا علم ہوتا ہے اس سے پہلے وہ اس راستہ سے واقف نہیں ہوتا۔یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے کہ اسے محمد رسول اللہ علیم تھے ہمارے راستے کا علم نہیں تھا پھر ہم نے اپنے فضل سے تجھے وہ راستہ دکھا دیا جس کی جستجو تیرے دل میں پائی جاتی تھی۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان احسانات کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے رسول کریم علی پر کئے۔الخ يجدك يتيما فاوی میں تو یہ بتایا کہ ہم نے تیرے جسمانی یتم میں تجھے جسمانی رشتہ دار عطا کئے۔تو اس بات کا محتاج تھا کہ کوئی شخص تیری پرورش کرنے والا ہوتا، مجھے محبت اور پیار سے رکھتا اور تیری ضروریات کو پورا کرتا۔سو اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے ایسے لوگ کھڑے کر دئیے جو انتہائی توجہ کے ساتھ تیری پرورش کا فرض سر انجام دیتے رہے اور ہر موقع پر جسمانی طور پر تیری مدد کرتے رہے دوسری طرف روحانی یتیم کے لئے ہم نے اپنی محبت اور 786