نُورِ ہدایت — Page 785
وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الأولى۔مد اور ( دیکھ توسہی کہ ) تیری ہر پیچھے آنے والی گھڑی پہلی سے بہتر ہوتی ہے۔بہت سے ترقی کرنے والے یکدم بڑھتے ہیں مگر آخر ٹھو کر کھاتے اور گر جاتے ہیں۔۔۔۔پھر بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بڑے ذہین ہوتے ہیں مگر آخر میں پاگل ہو جاتے ہیں یا اپنی ذہانت کو کھو بیٹھتے ہیں۔۔۔۔عالم ہوتے ہیں مگر آخر میں جاہل ہو جاتے ہیں ، ان کا حافظہ خراب ہو جاتا ہے اور وہ علم جو انہوں نے سیکھا ہوتا ہے سب بھول جاتا ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو محبوب ہوتے ہیں مگر آخر وہ متروک ہو جاتے ہیں بلکہ جس قدر جسمانی محبوب ہوتے ہیں ان سب کا یہی حشر ہوتا ہے۔جوانی میں ہر شخص ان کی طرف دیکھتا ہے مگر جب ان کے دانت گر جاتے ہیں، جب ان کی کمر جھک جاتی ہے، جب ان کے چہرہ پر جھریاں پڑ جاتی ہیں۔تو بدصورت سے بد صورت انسان بھی ان کو دیکھ کر ہنستا ہے اور کہتا ہے یہ کیسا بد شکل انسان ہے۔۔۔۔تو کئی محبوب ہوتے ہیں مگر آخر میں مبغوض ہو جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ہمارے رسول ! تیرا یہ حال نہیں ہوگا۔تجھ کو جوترقیات ملیں گی وہ ہر قدم پر بڑھتی چلی جائیں گی۔پہلے مدینہ کا گردونواح صاف ہوا، پھر مکہ فتح ہوا، پھر سارا عرب پھر شام اور عراق اور مصر فتح ہوئے۔غرض ہر قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔حمہ اللہ تعالیٰ نے مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلی میں یہ مضمون بیان کیا تھا کہ محمد رسول اللہ لام کی بسط کی حالت بھی خدا تعالیٰ کی معیت کا ثبوت ہو گی اور ان کی قبض کی حالت بھی مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلی کا ثبوت ہو گی۔اب اس آیت میں یہ بتاتا ہے کہ ہم ایک بات کی تمہیں تسلی دلا دیتے ہیں اور وہ یہ کہ تم ان روحانی لہروں میں یکساں نہیں چلو گے بلکہ ہمیشہ پہلے سے اونچے نکلتے چلے جاؤ گے۔ا خلال کے ایک معنے محبت شدیدہ کے بھی ہوتے ہیں مفردات والے لکھتے ہیں یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت یعقوب کی نسبت ان کے 785