نُورِ ہدایت — Page 783
ہوا۔گویا جب ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکات حاصل ہوتی ہیں یا ترقیات سے ان کو حصہ ملتا ہے ان میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور جب مشکلات آتی ہیں تو اس وقت بالکل مایوس ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جہاں دشمن ایسا ہے کہ اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کہتا ہے رَبِّي أَهَانِ (الفجر (17) میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا اور خوشی پہنچتی ہے تو کہتا ہے رَبِّي أَكْرَمَنِ (الفجر (18) ہاں جی ہم تو ہیں ہی ایسے کہ خدا ہماری عزت کرتا۔ایسے لوگوں کے بالمقابل اے محمد رسول اللہ تیری یہ حالت نہیں بلکہ والضُّحَى وَالَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وما قلی۔ہم تیری یہ دونوں حالتیں دشمنوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔تیر انفس کامل اتنا اعلی درجے کا ہے کہ تیر اسلوک اپنے رب سے ہمیشہ اس قسم کا ہوگا کہ ہر مایوسی اور تکلیف کے وقت خدا تجھے بھولے گا نہیں بلکہ یادر ہے گا۔مایوسی کبھی تیرے قریب بھی نہیں آئے گی اور خوشی کے وقت کبھی تکبر تیرے پاس بھی نہیں پھٹکے گا۔جب تجھ پر انعامات نازل ہوں گے تو یہ نہیں کہے گا کہ میں نے یہ انعام بزور بازو حاصل کیا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کو ناراض کر لے گا بلکہ تو کہے گا کہ خدا تعالیٰ نے یہ انعام بخشا ہے اور اس طرح خدا تعالی کی خفگی کو پاس بھی نہیں آنے دے گا۔اسی طرح جب تجھے تکلیفیں آئیں گی اس وقت بھی تو خدا پر کوئی الزام نہیں لائے گا۔بلکہ اسی کے کنا ر عاطفت کی طرف تو ہر وقت جھکا رہے گا اور اس وجہ سے خدا تعالیٰ تیرے پاس آکھڑا ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالضُّحَى۔وَالَّيْلِ إِذَا سَجَى۔مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى اے محمد رسول اللہ ! ہر رات جو تیری زندگی میں آئے گی، ہر رات جو تجھ پر گزرے گی وہ اس بات کو ثابت کرنے والی ہوگی کہ مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلی۔کہ نہ تو تیرے خدا نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ تجھ سے ناراض ہوا ہے بلکہ وہ تجھ سے ہر گھڑی زیادہ قریب ہوتا جائے گا۔کچھ لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جن پر دن چڑھتے ہیں تو وہ اپنے دنوں کوکھیل میں، تماشا میں، جوئے میں ، شراب میں اور اسی قسم کی اور لغویات میں ختم کر دیتے ہیں اور جب رات آتی ہے تو اس کو ناچ گانے اور سونے میں ختم کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مگر اسم محمد علیم ایسے لوگوں کے مقابل پر تیر دن بھی اس قسم کا ہوگا اور تیری راتیں بھی اس قسم کی 783