نُورِ ہدایت — Page 784
اور اسے کہہ ہوں گی کہ ہر دیکھنے والے کے سامنے تیرے ساتھی ان دنوں اور ان راتوں کو پیش کر سکیں گے ہ سکیں گے کہ بتاؤ کیا تمہارے دن محمد علی کے دنوں کی طرح ہیں اور کیا اس حالت میں دن گزارنے والے کو کبھی خدا تعالیٰ چھوڑ سکتا ہے یا اس سے ناراض ہوسکتا ہے؟ اسی طرح تیری راتیں ایسی گزریں گی کہ تم ہر شخص کے سامنے اپنی ان راتوں کو پیش کر کے کہہ سکو گے کہ میری راتوں کو دیکھو اور بتاؤ کہ کیا ایسی راتوں والے کو خدا تعالیٰ چھوڑ سکتا ہے؟ غرض فرمایا۔وَالضُّحَى وَالَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلی اے محمد عالم ہم تیرے دنوں کو ایسا کر دیں گے اور تیری راتوں کو بھی ایسا کر دیں گے کہ تیرا دن بھی اس بات کی شہادت دے گا کہ تجھے خدا نے نہیں چھوڑا۔اور تیری رات بھی اس بات کی شہادت دے گی کہ تیرا خدا تجھ سے ناراض نہیں ہے۔یہ وہی دعوی ہے جو فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (یونس 17) میں کیا گیا ہے کہ میں تم میں ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ میں نے اس عرصہ میں کسی ایک بدی کا بھی ارتکاب کیا ہو۔اگر تم سب کے سب مل جاؤ تب بھی میری چالیس سالہ ابتدائی زندگی پر کوئی داغ ثابت نہیں کر سکتے۔مگر یہ دعوی تو گزری ہوئی عمر کے متعلق ہے اور وَالضُّحى۔وَالَّيْلِ إِذَا سَفِي مَا وَذَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى میں آئندہ زندگی کے متعلق دعوی کر دیا اور فرمایا کہ میرے دن تمہارے سامنے ہیں ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں دن تمہارے سامنے گزرے گا۔اسی طرح میری راتیں بھی تمہارے سامنے ہوں گی اور ایک کے بعد دوسری رات گزرتی چلی جائے گی لیکن یا درکھو میری زندگی کا ہر دن جو گزرے گا وہ ثبوت ہوگا اس بات کا کہ مَا وَذَعَنِى رَبِّي وَمَا قَلاني۔اسی طرح ہر رات جو مجھ پر گزرے گی وہ ثبوت ہوگی اس بات کا کہ مَا وَذَعَنِى رَبِّي وَمَا قَلانِي غرض خدا تعالیٰ اس آیت میں محمد رسول اللہ علیم کو آپ کی صداقت کی ایک نئی دلیل سکھاتا ہے اور فرماتا ہے میں یہ پیشگوئی کرتا ہوں کہ تیرا ہر دن میری رضامندی میں گزرے گا اور تیری ہر رات میری رضا مندی میں گزرے گی۔784