نُورِ ہدایت — Page 766
بہت سے سیارے ایسے ہیں جو ر ہائش کے قابل نہیں اسی طرح بعض زمینیں ایسی ہیں جو انسانی رہائش کے قابل نہیں ہوتیں۔۔۔۔زمین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس کے قابل رہائش ہونے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ بعض زمینیں ایسی ہیں جو انسانی رہائش کے قابل نہیں ہیں۔چنانچہ وَالْأَرْضِ وَمَا طَحها میں اللہ تعالیٰ اسی صنعت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بتا تا ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالی نے زمین کو تمہاری رہائش کے قابل بنایا ہے اور یہ اس کا ایک بہت بڑا احسان ہے جس سے اس نے تمہیں نوازا۔یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں آسمان سے مراد صرف جو نہیں ہوتا بلکہ تمام ستارے، سیارے اور روشنیاں وغیرہ اس سے مراد ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس طرح ان کے بغیر زمین کام نہیں دے سکتی اسی طرح محمد رسول اللہ علیم کے بغیر تم بھی کوئی خوبی ظاہر نہیں کر سکتے۔اور پھر جس طرح آسمانی فیوض سے زمین انکار نہیں کر سکتی اسی طرح محمد رسول اللہ ام کے روحانی فیوض سے بھی تم ہمیشہ کے لئے انکار نہیں کر سکتے۔اگر زمین کے سامنے سورج آئے تو کیا زمین اس وقت کہ سکتی ہے کہ میں روشنی نہیں لیتی۔وہ مجبور ہے کہ سورج سے روشنی حاصل کرے۔اسی طرح جب محمد رسول اللہ علیہ ظاہر ہو گئے ہیں تو اب دنیا آپ کا زیادہ دیر تک انکار نہیں کر سکے گی وہ ضرور آپ پر ایمان لائے گی۔وَنَفْسٍ وَمَا سَوهَا اور انسانی نفس کی اور اس کے بے عیب بنائے جانے کی۔سوی کے معنے معتدل القویٰ کے بنانے کے ہوتے ہیں۔۔۔۔جس طرح پہلی آیت میں بتایا تھا کہ ہم نے زمین کو قابل رہائش بنایا اسی طرح یہاں یہ بھی بتایا ہے کہ ہم نے نفس کا تسو یہ کیا اور اس میں ایسی قوت پیدا کی ہے کہ وہ اعتدال سے ترقی کی طرف جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تمہارے نفس میں یہ شہادت موجود نہ ہوتی اور جس طرح ہم نے زمین کو طحی کیا ہے اس طرح تمہارے نفوس کا تسویہ نہ کیا ہوتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ ہم پر یہ مثال چسپاں نہیں ہو سکتی۔لیکن جب نفوس انسانی میں اعتدال کو اختیار کر کے ترقی کرنے کا مادہ پایا جاتا ہے تو تم یہ 766