نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 765 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 765

کے غائب ہونے کے بعد اپنے کمال کو پہنچتا ہے۔ا وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشها پھر فرماتا ہے تیری امت پر ایک وہ زمانہ بھی آنے والا ہے جب سورج سے وہ اپنا منہ موڑلے گی اور نہار کی بجائے لیل کا زمانہ اس پر آجائے گا۔۔۔۔چنانچہ جب رات اُن پر چھا جائے گی اور دنیا بزبان حال ایک سورج کا مطالبہ کر رہی ہوگی اللہ تعالیٰ پھر ایک چاند کو جو سورج کا قائم مقام ہوتا ہے چڑھا دے گا اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روشنی لے کر اسے ساری دنیا میں پھیلا دے گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے وَالشَّمْسِ وَضُهَا۔وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَهَا میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ بعض انفاس اپنے اندر ذاتی فضیلت رکھتے ہیں اور وہ دنیا کو چمکا دیتے ہیں۔اور دراصل ایسے ہی وجود دنیا کی اصلاح کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں۔اس کے بالمقابل بعض انفاس قمر کی حالت رکھتے ہیں اور اُسی وقت دنیا کی ہدایت کا موجب ہوتے ہیں جب وہ سورج کے پیچھے آتے ہیں یعنی اُن کا نور ذاتی نہیں بلکہ مکتسب ہوتا ہے۔ان دونوں حالتوں کو اللہ تعالیٰ نے بطور شاہد پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ اصلاح عالم بغیر ان دو قسم کے وجودوں کے نہیں ہو سکتی یا نفس کامل یا متبع کامل - نفس کامل وہ ہے جس کا ذکر و الشَّمْسِ وَضُحَھا میں آتا ہے۔اور متبع کامل وہ ہے جس کا ذکر وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَهَا میں آتا ہے۔جب تک ان دونوں صفات میں سے کوئی ایک صفت موجود نہ ہو کوئی شخص اصلاح کا فرض سر انجام نہیں دے سکتا۔وَالسَّمَاء وَمَا بَنهَا ہم شہادت کے طور پر آسمان کو پیش کرتے ہیں اور اسے بھی جس نے اسے بنایا۔آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم آسمان اور اُسے بنانے کی یعنی خدا تعالیٰ کی صنعت کی شہادت تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں اس صورت میں بھی شہادت تو خدا تعالیٰ کے فعل کی ہی ہوگی مگر براہ راست آسمان کی بناوٹ کو پیش کرنا سمجھا جائے گا۔اسی طرح وَالْأَرْضِ وَمَا ظلها۔۔کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم شہادت کے طور پر زمین کو پیش کرتے ہیں اور اس کے بچھے ہوئے ہونے کو بھی۔765