نُورِ ہدایت — Page 767
نہیں کہہ سکتے نفس انسانی خود اس امر پر شاہد ہے کہ کوئی نور اسے آسمان سے ملنا چاہئے جس طرح زمین آسمانی روشنی کی محتاج ہوتی ہے اسی طرح تم آسمانی نور کے محتاج ہو۔غرض انسان کو ایک معتدل القویٰ نفس عطا کیا گیا ہے اس میں ترقی کا مادہ ہے جو اعلیٰ درجہ کے مقصود تک پہنچنے کے لئے ہے۔پھر اس میں اپنے دائیں اور بائیں کو محفوظ رکھنے کا مادہ ہے جس سے اخلاق کی تکمیل ہوتی ہے۔وہ جانتا ہے کہ فلاں کام مجھے کرنا چاہئے اور فلاں نہیں۔فلاں کام میرے لئے مفید ہے اور فلاں مضر۔جب انسان کے اندر یہ تمام قابلیتیں پائی جاتی ہیں تو تم کسی راہنما اور معلم کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا پھر اس ( یعنی خدا) نے اس (نفس) پر اس کی بدکاری ( کی راہوں) اور اس کے تقویٰ ( کے راستوں ) کو کھول دیا۔یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے سمجھنے میں بہت سے لوگ غلطی کھا جاتے ہیں اور وہ بجائے مسئلہ کو اس رنگ میں پیش کرنے کے کہ ہر انسان کچھ باتوں کو اچھا سمجھتا اور کچھ باتوں کو برا سمجھتا ہے وہ اس رنگ میں بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہر انسان سمجھتا ہے کہ قتل برا ہے۔یا ہر انسان سمجھتا ہے کہ جھوٹ بولنا بُرا ہے۔یا ہر انسان سمجھتا ہے کہ ڈاکہ ڈالنا بُرا ہے۔اس پر اس کے مخالف جواب دے دیتے ہیں کہ تم کہتے ہو ہر شخص جھوٹ کو بُراسمجھتا ہے حالانکہ دنیا میں کئی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ ہی نہیں ہوسکتا۔اگر تمہاری یہ بات درست ہے کہ فجور اور تقویٰ کا الہام اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی میں کیا ہے تو چاہئے تھا کہ ہر شخص جھوٹ کو بر آسمجھتا یا ہر شخص قتل کو برا سمجھتا۔مگر واقعہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ دنیا میں جھوٹ بولتے ہیں اور چونکہ ان کے نفس میں ہدایت نہیں ہوتی اور متواتر جھوٹ بول بول کر ان کی فطرت مسخ ہو چکی ہوتی ہے وہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ جھوٹ کے بغیر دنیا میں گزارہ ہی نہیں ہوسکتا۔اسی طرح بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو چوری کو برا نہیں سمجھتے ، بعض لوگ ایسے 767