نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 757 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 757

میں تھے۔یہی انسانی نفس کے سفید ہونے کی تدبیر ہے اور تمہاری ساری نجات اس سفیدی پر موقوف ہے۔یہی وہ بات ہے جو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَعَهَا یعنی وہ نفس نجات پا گیا جو طرح طرح کے میلوں اور چرکوں سے پاک کیا گیا۔( گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد 17 صفحه 15-14) قرآن شریف میں آیا ہے قد أَفْلَحَ مَن زَکھا اس نے نجات پائی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔تزکیہ نفس کے واسطے صحبت صالحین اور نیکوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنا بہت مفید ہے۔جھوٹ وغیرہ اخلاق رذیلہ دور کرنے چاہئیں اور جو راہ پر چل رہا ہے اس سے راستہ پوچھنا چاہئے۔اپنی غلطیوں کو ساتھ ساتھ درست کرنا چاہئے جیسا کہ غلطیاں نکالنے کے بغیر املا درست نہیں ہوتا ویسا ہی غلطیاں نکالنے کے بغیر اخلاق بھی درست نہیں ہوتے آدمی ایسا جانور ہے کہ اس کا تزکیہ ساتھ ساتھ ہوتا رہے تو سیدھی راہ پر چلتا ہے ورنہ بہک جاتا ہے۔ملتا ( بدر جلد 10 نمبر 44، 45 مورخہ 5اکتوبر 1911 صفحہ 9) دنیا میں انسان کو جو بہشت حاصل ہوتا ہے وہ قَد أَفْلَحَ مَنْ زَلهَا پر عمل کرنے سے ہے۔جب انسان عبادت کا اصل مفہوم اور مغز حاصل کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے انعام واکرام کا پاک سلسلہ جاری ہو جاتا ہے اور جو نعمتیں آئندہ بعد مردن ظاہری، مرتی اور محسوس طور پر ملیں گی وہ اب روحانی طور پر پاتا ہے۔الحکم جلد 6 نمبر 26 مورخہ 24 جولائی 1902، صفحہ 9) کپڑا جب تک سارا نہ دھویا جاوے وہ پاک نہیں ہوسکتا۔اسی طرح پر انسان کے سارے جوارح اس قابل ہیں کہ وہ دھوئے جاویں کسی ایک کے دھونے سے کچھ نہیں ہوتا۔الحکم جلد 5 نمبر 40 مورخہ 31 اکتوبر 1901 ، صفحہ 1) یا درکھو کہ اصل صفائی وہی ہے جو فرمایا ہے قد افلح من رکھا۔ہر شخص اپنا فرض سمجھ لے کہ وہ اپنی حالت میں تبدیلی کرے۔الحکم جلد 6 نمبر 12 مورخہ 31 مارچ 1902ء صفحہ 6) 757