نُورِ ہدایت — Page 756
اپنے اندر رکھتا ہے اور بُرا انسان فطرتاً ایک بُرا ملکہ رکھتا ہے چنانچہ اسی ملکہ فطرتی کی وجہ سے بہت سے لوگ اچھی اور بری تالیفیں اور پاک اور ناپاک ملفوظات اپنی یادگار چھوڑ گئے ہیں۔بركات الدعا، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 20 حاشیہ ) وہ شخص نجات پا گیا جس نے اپنی جان کو غیر کے خیال سے پاک کیا۔اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ جس نے اس محبوب کو اپنے اندر آباد کیا۔۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تو اندر میں خود آباد ہے صرف انسان کی طرف سے بوجہ التفات إلى الغير دُوری ہے۔پس جس وقت غیر کی طرف سے التفات کو ہٹالیا تو خود اپنے اندر نور الہی کو مشاہدہ کرلے گا۔خدا د ور نہیں ہے کہ کوئی اس طرف جاوے یا وہ اس طرف آوے بلکہ انسان اپنے حجاب سے آپ ہی اس سے دُور ہے۔پس خدا فرماتا ہے کہ جس نے آئینہ دل کو صاف کر لیا وہ دیکھ لے گا کہ خدا اس کے پاس ہی ہے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 223) مذہب اُس زندگی کے حاصل کرنے کے لئے ہے جو خدا میں ہے اور وہ زندگی نہ کسی کو حاصل ہوئی اور نہ آئندہ ہوگی بجز اس کے کہ خدائی صفات انسان کے اندر داخل ہو جائیں۔خدا کے لئے سب پر رحم کرو تا آسمان سے تم پر رحم ہو۔آؤ میں تمہیں ایک ایسی راہ سکھاتا ہوں جس سے تمہارا نور تمام نوروں پر غالب رہے اور وہ یہ ہے کہ تم تمام سفلی کینوں اور حسدوں کو چھوڑ دو اور ہمدر دنوع انسان ہو جاؤ اور خدا میں کھوئے جاؤ اور اس کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل کرو کہ یہی وہ طریق ہے جس سے کرامتیں صادر ہوتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں اور فرشتے مدد کے لئے اترتے ہیں۔مگر یہ ایک دن کا کام نہیں ترقی کر و تر قی کرو۔اس دھوبی سے سبق سیکھو جو کپڑوں کو اؤل بھٹی میں جوش دیتا ہے اور دئیے جاتا ہے یہاں تک کہ آخر آگ کی تاثیریں تمام میل اور چرک کو کپڑوں سے علیحدہ کر دیتی ہیں۔تب صبح اٹھتا ہے اور پانی پر پہنچتا ہے اور پانی میں کپڑوں کو تر کرتا ہے۔اور بار بار پتھروں پر مارتا ہے تب وہ میل جو کپڑوں کے اندر تھی اور اُن کا جز بن گئی تھی کچھ آگ سے صدمات اٹھا کر اور کچھ پانی میں دھوبی کے بازو سے مارکھا کر یکدفعہ جدا ہونی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کپڑے ایسے سفید ہو جاتے ہیں جیسے ابتدا 756