نُورِ ہدایت — Page 758
پاکیزگی اور طہارت عمدہ شے ہے۔انسان پاک اور مطہر ہو تو فرشتے اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔لوگوں میں اس کی قدر نہیں ہے ورنہ ان کی لذات کی ہر ایک شے حلال ذرائع سے ان کو ملے۔چور چوری کرتا ہے کہ مال ملے لیکن اگر صبر کرے تو خدا تعالیٰ اسے اور راہ سے مالدار کر دے۔اسی طرح زانی زنا کرتا ہے اگر صبر کرے تو خدا اس کی خواہش کو اور راہ سے پوری کر دے۔جس میں اس کی رضا حاصل ہو۔حدیث میں ہے کہ کوئی چور چوری نہیں کرتا مگر اس حالت میں کہ وہ مومن نہیں ہوتا اور کوئی زانی زنا نہیں کرتا مگر اس حالت میں کہ وہ مومن نہیں ہوتا۔جیسے بکری کے سر پر شیر کھڑا ہو تو وہ گھاس بھی نہیں کھا سکتی۔تو بکری جتنا ایمان بھی لوگوں کا نہیں ہے۔اصل جڑا اور مقصود تقویٰ ہے جسے وہ عطا ہو تو سب کچھ پاسکتا ہے بغیر اس کے ممکن نہیں ہے کہ انسان صفائز اور کبائر سے بچ سکے۔( البدر جلد 1 نمبر 7 مورخہ 12 دسمبر 1902ء صفحہ 51) ی فلاح نہیں ہوتی جب تک نفس کو پاک نہ کرے اور نفس تب ہی پاک ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے احکام کی عزت اور ادب کرے اور ان راہوں سے بچے جو دوسرے کے آزار اور دکھ کا موجب ہوتی ہیں۔احکم جلد 9 نمبر 33 مورخہ 24 ستمبر 1905 ، صفحہ 9) اسلام نے۔۔۔تعليم دى قد أَفْلَحَ مَنْ زَهَا یعنی نجات پا گیا وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کیا۔یعنی جس نے ہر قسم کی بدعت، فسق و فجور، نفسانی جذبات سے خدا تعالیٰ کے لئے الگ کر لیا اور ہر قسم کی نفسانی لذات کو چھوڑ کر خدا کی راہ میں تکالیف کو مقدم کر لیا۔ایسا شخص فی الحقیقت نجات یافتہ ہے جو خدا تعالیٰ کو مقدم کرتا ہے اور دنیا اور اس کے تکلفات کو چھوڑتا ہے۔اور پھر فرمایا قَد خَابَ مَنْ دَشها مٹی کے برابر ہو گیا وہ شخص جس نے نفس کو آلودہ کر لیا یعنی جو زمین کی طرف جھک گیا۔گویا یہ ایک ہی فقرہ قرآن کریم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس طرح خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔یہ بالکل سچی اور پکی 758