نُورِ ہدایت — Page 721
لگ جائیں گے۔پس وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاعِمَةٌ میں صحابہ کے یا مومنوں کے اخلاق فاضلہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور حسن سلوک کی خُدا ان کو تو فیق عطا فرمائے گا کہ وہ دنیا کی نگاہ میں بڑے خوبصورت اور حسین نظر آئیں گے۔اور اگر اس سے تقویٰ اور علم مراد ہو تو وہ ظاہر ہی ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاعِمَةٌ لِسَعْيِهَا رَاضِيَةً کا اگر ہم معنوی لحاظ سے ترجمہ کریں تو یوں ہوگا کہ کچھ چہرے ایسے ہوں گے یا کچھ افراد ایسے ہوں گے کہ ایک دن آئے گا جب کہ وہ دنیا کی نگاہ میں حسین ہو جائیں گے لِسَعيها راضية اور اپنی نگاہ میں بھی حسین ہوں گے اور وہ اپنے کئے پر خوش ہوں گے۔اُن میں یہ احساس نہیں ہوگا کہ ہم نے لوگوں کے لئے قربانی کر کے اپنے اوپر ظلم کیا ہے بلکہ وہ جس قدر خدمات سرانجام دیں گے،جس قدر قربانیاں کریں گے، جس قدر احسانات کریں گے اُن کے دل اور زیادہ خوش ہوں گے۔گویا ایمان اور اخلاص اور محبت باللہ سے اُن کے قلوب اس طرح پر ہوں گے کہ صرف لوگ ہی اُن کو دیکھ کر خوش نہیں ہوں گے بلکہ وہ خود بھی اپنے کاموں کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ پرانے زمانہ میں شاید جَنَّةٍ عَالِيَةٍ کا مفہوم پوری طرح نہ سمجھا جاتا ہومگر اس زمانہ میں اس کا مفہوم سمجھنا بالکل آسان ہے کیونکہ بینگنگ گارڈنز (HANGING GARDENS) دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ہینگنگ گارڈن کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لٹکا ہوا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ اونچی چوٹی پر ہے اور چونکہ لوگ نیچے ہوتے ہیں اور باغات چوٹی پر ہوتے ہیں اس لئے اُن کو ہینگ گارڈنز کہا جاتا ہے یعنی بلند اور اونچے باغات۔اسی طرح فرماتا ہے مومن ایسے باغات میں ہوں گے جو اونچے اور بلند ہوں گے۔جنت کے معنے سایہ دار جگہ کے ہیں اور عالیہ کے معنے بلند کے ہیں۔جو چیز سایہ دار ہو اُس 721