نُورِ ہدایت — Page 720
پس بتایا کہ جیسے ظاہری لحاظ سے محسن اور مال دونوں نعمتیں اُن کو حاصل ہوں گی اسی طرح باطنی لحاظ سے تقویٰ بھی اُن میں پایا جائے گا اور علم بھی اُن کو عطا ہو گا۔ظاہری لحاظ سے وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ ناعمة کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ اُس دن بڑے حسین نظر آرہے ہوں گے۔بظاہر یہ سمجھنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص وقت کوئی شخص حسین کس طرح ہو جائے گا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جس کے ساتھ محبت کا تعلق ہو وہ بہت ہی خوبصورت دکھائی دیتا ہے اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ بوجہ ذاتی تقویٰ اور احسان کے وہ لوگوں کے محبوب ہو جائیں گے اور خواہ اُن کی شکل کیسی ہی ہو وہ لوگوں کو حسین نظر آئیں گے جیسے ہر باپ کو اپنا بیٹا اور ہر بیٹے کو اپنا باپ حسین نظر آتا ہے۔غرض ناعمة کے اگر ظاہری معنے لئے جائیں تو وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاعِمَةٌ کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ ایسے مقبول جہاں ہو جائیں گے کہ لوگوں کو حسین نظر آنے لگ جائیں گے۔یہ ضروری نہیں کہ اُن کی شکلیں بھی حسین ہوں بلکہ وہ دنیا کو حسین اور خوبصورت معلوم ہونے لگ جائیں گے۔جب وہ دنیا کے محسن ہوں گے جب وہ خدمت خلق کرنے والے ہوں گے جب وہ یتامیٰ سے حسن سلوک کرنے والے ہوں گے، جب وہ غریبوں سے ہمدردی کرنے والے ہوں گے، جب وہ گرے ہوئے لوگوں کو اٹھانے والے ہوں گے تو وہ لوگ دنیا کو دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ خوبصورت اور اچھے نظر آنے لگ جائیں گے اور دوسرے لوگوں کے چہرے اُن کے مقابلہ میں انہیں حسین نظر نہیں آئیں گے۔پس اگر ہم اس کے ظاہری معنے لیں تب بھی وہ صحیح ہوں گے مگر اس طرح نہیں کہ ان کی شکلیں خوبصورت ہو جائیں گی بلکہ جیسے محاورہ کے طور پر کہتے ہیں پر نالہ چلتا ہے اور مراد یہ ہوتا ہے کہ پر نالہ میں پانی چلتا ہے۔اسی طرح اس کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ اپنے احسان کی وجہ سے حسین نظر آنے لگ جائیں گے۔جب اُن میں احسان کا مادہ ہوگا ، جب اُن میں نیکی ہوگی، جب اُن میں عفت ہوگی، جب اُن میں حسنِ سلوک کا جذبہ ہوگا تو و ہ لوگوں کو بے انتہا پیارے لگنے 720