نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 722 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 722

کے اندر کی چیزیں لوگوں کو نظر نہیں آتیں اور جو چیز بلندی پر ہو اُس پر دھوپ پڑتی ہے سایہ دار نہیں رہ سکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جن باغات کا ہم ذکر کرتے ہیں اُن کے اندر دونوں قسم کی خوبیاں پائی جائیں گی۔جہاں تک شہرت اور عزت کا سوال ہے وہ عالیہ ہوں گے۔اور جہاں تک اُن کی نیکیوں اور خوبیوں کا سوال ہے وہ سایہ دار ہوں گے۔یعنی لوگوں کی نظریں بھی اُن کی طرف اُٹھیں گی اور پھر وہ تمازت اور دھوپ کا شکار بھی نہیں ہوں گے بلکہ ہر وقت سائیۃ رحمت الہی کے نیچے رہیں گے ورنہ اکثر لوگ بلندی پر پہنچ کر ننگے ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کا سورج بجائے اُن کے نفع مند ہونے کے لئے اُن کے جلانے کا موجب ہو جاتا ہے۔لَا تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً لاغِيَةً کے معنے ہیں اللغو یعنی لغو اور بیہودہ بات۔کہتے ہیں كَلِمَةٌ لَاغِيَةٌ آنی فَاحِشَةً كَلِمَةٌ لَاغِيَةً ایسے کلمہ کو کہتے ہیں جوش اور بُرا ہو وَمِنْهُ لَا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً أَىٰ كَلِمَةٌ ذَاتَ لَغْوِ اور لَا تَسْمَعُ فِيهَا لاغِيَةً کے یہ معنے ہیں کہ تو اس میں کوئی محش اور بُری بات نہیں سنے گا یا وہ چہرے اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے ( اقرب) دنیا میں انسان دو ہی طرح بری باتیں سنتا ہے یا تو اس طرح کہ وہ خود کج رو ہوتا ہے اور لوگوں سے لڑتا رہتا ہے اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر اُسے لاغية سُننا پڑتا ہے۔مثلاً جب وہ دوسرے کو خبیث کہے گا تو خبیث کا لفظ اُس کے اپنے کان میں بھی پڑے گا۔اور اس طرح اُسے لاغية سُننا پڑے گا۔اور یا پھر دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس سے لڑتے ہیں اور وہ لاغية سنتا ہے۔اپنا کہا انسان تب سنتا ہے جب وہ لوگوں سے خوش نہ ہو۔اور لوگوں سے لاغية تب سنتا ہے جب لوگ اس سے خوش نہ ہوں۔مگر فرماتا ہے وہ لوگ ایسے ہوں گے کہ لاغية نہیں سنیں گے۔یعنی وہ لوگوں سے خوش ہوں گے اور لوگ اُن پر خوش ہوں گے۔اُن میں رحم ہوگا ، اُن میں ہمدردی ہوگی ، اُن میں پردہ پوشی کی عادت ہوگی، ان میں حسن سلوک کا جذبہ ہوگا، اُن میں محبت ہوگی، اُن میں خلوص ہوگا اور اس وجہ سے وہ لوگوں سے لڑیں گے نہیں اور نہ 722