نُورِ ہدایت — Page 689
اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل تعلیم اتاری اور اس مزاج کے مطابق اتاری جو انسان میں خدا تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے یا جس کی نشو نما اس زمانے میں ہو چکی تھی اور آئندہ بھی انسان کی ذیلی صلاحیتوں کا اور اس کے قویٰ کا نشود نما اب قیامت تک ہوتے چلے جانا ہے۔انسان کی فطرت میں اگر اللہ تعالیٰ نے نرمی اور غصہ رکھا ہے تو یہ بھی عین ضرورت کے مطابق ہے۔کبھی نرمی کا اظہار ہو جاتا ہے، کبھی غصہ کا اظہار۔اس لئے قرآن کریم میں جو تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے اس میں بھی یہی فرمایا ہے کہ غصے کا اور نرمی کا اظہار اپنے وقت پر کرو تبھی ان انسانوں میں شامل ہو گے جو سوی کے لفظ کے تحت آتے ہیں۔یعنی جب ہر عمل جو ہے موقع اور محل کے مطابق ہو۔مثلاً اگر اصلاح کی ضرورت ہے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کے لئے معاف کرنے میں اصلاح کا پہلو نکلتا ہے یا سزا دینے میں۔اگر صرف ہر صورت میں معاف ہی کیا جاتارہے تو معاشرے میں ان لوگوں کے ہاتھوں جو ہر وقت فساد پر محلے رہتے ہیں معاشرے کا امن برباد ہی ہوتا چلا جائے گا۔پس ایک عقل مند اور اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت رکھنے والا انسان ہمیشہ اعتدال سے کام لیتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اس کو اس طرح پیدا کیا ہے جو ہر لحاظ سے مناسب ہے۔عیب سے پاک ہے۔پھر عقلمند انسان کا ہر عمل اور فعل، موقع اور محل کے مناسب حال ہوتا ہے۔خَلق فسوى الاعلیٰ (3) کا یہ مطلب بھی ہے کہ اس میں جب خرابیاں پیدا ہوتی ہیں تو اس عیب کو درست کرنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ سامان پیدا فرماتا ہے۔بیماریاں ہیں تو ان کا علاج ہے اور یہ علاج کے طریق بھی خدا تعالیٰ ہی سکھاتا ہے۔بعض دہر یہ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید ان کی دماغی صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں علاج سمجھ آ گیا لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس کے پیچھے سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کارفرما ہے۔اور یہ باتیں پھر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایسا ذہن عطا فرمایا ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے لئے، سہولیات کے لئے ایجادات کرتا چلا جا رہا ہے۔مثلاً بیماریوں کے خلاف علاج ہے تو اس کے بھی نئے نئے طریق نکال رہا ہے۔بہت سی بیماریاں جو پہلے نہیں ہوتی تھیں یا پتہ نہیں تھا، جن 689