نُورِ ہدایت — Page 688
آپ نے ہی قائم فرمائے۔آپ نے دعوت الی اللہ کا حق قائم فرما دیا۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارہ میں فرمایا کہ داعيا الى اللہ پاڈیہ (سورۃ الاحزاب 47) کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔اور جب آپ کو فرمایا کہ يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلّغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ (المائدة68) کہ اے رسول! تیری طرف تیرے رب کی طرف سے جو کلام اتارا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا تو اس کا بھی آپ نے حق ادا کر دیا۔کیونکہ اس کے بعد رب اعلیٰ کے نام کی سر بلندی جو پہلے ہی آپ کا مقصود تھی اس میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا۔نرمی سے ، حکمت سے، احسان سے، احسان کرتے ہوئے اور صبر دکھاتے ہوئے آپ نے ہر حالت میں تبلیغ کے کام کے حق کو ادا کرنے کی کوشش فرمائی۔ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہوئے اس حق کو ادا کیا۔مشکلات بھی آئیں تو تب بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہوئے آپ کے قدم آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔کوئی خوف ، کوئی ڈر آپ کو اس کام سے روک نہیں سکا۔آپ کی قوت قدسی نے یہی روح صحابہ میں بھر دی تھی۔اللہ تعالیٰ کے نام کی سربلندی کے لئے وہ بھی قربانیاں دیتے چلے گئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الَّذِی خَلَقَ فَسَوى (الاعلیٰ (3) یعنی جس نے پیدا کیا پھر ٹھیک ٹھاک کیا۔اس کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس حالت میں پیدا کیا ہے کہ اس کے اندر تمام ضروری طاقتیں رکھی ہیں اور ترقی کے مادے اس میں موجود ہیں۔عموماً ایک نارمل بچے کی جب پیدائش ہوتی ہے تو اس میں تمام ضروری طاقتیں بھی موجود ہوتی ہیں۔اور جوں جوں اس کی نشو ونما ہوتی رہتی ہے اور جس طرح پہلے زمانوں میں بھی ہوتی رہی ان طاقتوں میں اس ماحول کے لحاظ سے نکھار پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔بیشک بعض ذہنی اور جسمانی لحاظ سے کمز ور بھی ہوتے ہیں لیکن یہ عمومی حالت نہیں ہے۔پس انسان کو جب اشرف المخلوقات بنایا تو اس میں ذہنی صلاحیتیں بھی ایسی رکھیں کہ اگر ان کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو تمام مخلوق کو وہ زیر کر لیتا ہے۔گویا انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا پر تو بن سکتا ہے۔اور جیسا کہ پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں اس کا کامل نمونہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن پر 688