نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 690 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 690

کی صلاحیت نہیں تھی جب اللہ تعالیٰ نے صلاحیت پیدا کی ، انسان کی نشو نما کی۔اس کی ذہنی اور جسمانی طاقتیں بڑھائیں تو بعض ایسی نئی نئی باتیں بھی اس کے ذہن میں پیدا ہوگئیں جن کو استعمال کر کے وہ اپنی زندگی کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔مثلاً دل ہے انسان کا۔پہلے تو کسی کو پتہ ہی نہیں لگتا تھا یا انسانی زندگی اتنی سخت تھی کہ ورزش کی وجہ سے اور اپنی دوسری مصروفیات کی وجہ سے اور ایسی خوراک ہونے کی وجہ سے جو دل کو نقصان نہیں پہنچاتی ، دل کی بیماریاں نہیں تھیں لیکن جہاں جہاں اور جوں جوں انسان کی بعض صلاحیتیں بڑھتی چلی گئیں ، بیماریاں بڑھتی چلی گئیں۔دل کی بیماریاں بھی ان میں سے ایک ہیں۔اس کا علاج کا طریقہ آ پریشن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو سمجھایا۔پھر اس میں ترقی ہوئی تو ایک اور طریقہ اینجو پلاسٹی کا سمجھایا جو اس سے زیادہ آسان ہے۔اور اب مزید سٹیم سیل (Stem Cell) کے ذریعے علاج کی ریسرچ ہو رہی ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ انسانی صلاحیتوں کو ساتھ ساتھ اس کی ضروریات کے مطابق اجا گر کرتا چلا جاتا ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہے۔یہ وہ اعلیٰ رب ہے جس کی تعریف ایک بندے پر فرض ہے۔وہ اگر عیبوں کو ظاہر فرماتا ہے تو اس کے لئے پھر اس کا مداوا اور علاج بھی سمجھا دیتا ہے۔ایک موحد جب بھی نئی ریسرچ دیکھتا ہے تو اسے خدا تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب کرتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ جسمانی بیماریوں کے علاج کی طرف یوں رہنمائی فرما رہا ہے تو روحانی بیماریوں کے علاج کے سامان بھی کرتا ہے اور کیوں نہیں کرے گا۔پس ہر زمانے میں انبیاء روحانی بیماریوں کے علاج کے لئے آئے اور اپنے اپنے وقت کی بیماریوں کے علاج کرتے رہے۔جب انسانی زندگی روحانی بیماریوں کا مجموعہ بن گئی اور نئی نئی بیماریاں پیدا ہوگئیں، ہر زمانے کی بیماری جمع ہو گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور قرآن کریم کی کامل تعلیم اتاری جس نے علاج کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں اس کے اعلیٰ ترین نمونے اپنی قوتِ قدسیہ سے دکھائے۔اس تعلیم کی روشنی میں دکھاتے جس سے انسانوں کو ، جانوروں کو باخدا انسان بنا دیا۔لیکن ایک زمانے کے بعد جب مسلمان بھی اس تعلیم کو سمجھنے سے قاصر ہو گئے اور اس پر عمل کرنا بھول گئے 690