نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 686 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 686

سر جھک کر پالان سے چھورہا تھا اور سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے یہ دعا آپ پڑھ رہے تھے کہ سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي کہ اے اللہ ! تو پاک ہے اپنی حمد اور تعریف کے ساتھ۔اے اللہ مجھے بخش دے۔یہ معیار حاصل کرنے کے بعد جب خدا تعالیٰ نے آپ کی امت کے افراد سے اپنی محبت کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے ساتھ مشروط کیا ہے۔تو پھر بھی آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کے ساتھ ، شکر گزاری کے ساتھ اپنی مغفرت طلب فرما رہے ہیں۔پس یہ آپ کے نمونے ہیں۔انفرادی طور پر بھی تسبیح و تحمید کے طریق سکھا رہے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور تقدیس کا اظہار حقیقی رنگ میں کرنے کا پتہ چلے۔آپ کے لئے امت کے درود اور سلامتی بھیجنے پر تسبیح اور حمید اور شکر گزاری کا وہ اظہار فرمایا کہ جس کی مثال نہیں مل سکتی۔ایک شکر گزاری اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر درود بھیجنے کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ یہ امت کے لئے بخشش کا سامان ہو گیا ہے۔اور ایک اللہ تعالیٰ کی تسبیح اس لئے کہ کس کس طرح اللہ تعالیٰ میری امت کو بخشنے کے سامان فرما رہا ہے۔اور کیا مقام اللہ تعالیٰ مجھے عطا فرما رہا ہے؟ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کی صورت میں کامیابی عطا فرمائی تو تسبیح و تحمید اور شکر گزاری کا وہ اعلیٰ نمونہ ہے اور عاجزی کا وہ اعلیٰ نمونہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔یعنی یہ سب تسبیح کے نمونے دکھا کر اور سکھا کر امت کو اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ تمہاری بقا اور تمہاری کامیابی اور تمہاری ترقی اور تمہاری فتح بھی اسی میں ہے کہ دنیاوی اسباب پر بھروسہ نہ کرو بلکہ رب اعلیٰ کی تسبیح اور تحمید کروجو رب العالمین ہے۔یاد رکھو بے شک اپنے اپنے رنگ میں بعض اور بھی رب ہیں جن سے تمہیں واسطہ پڑتا رہتا ہے۔شروع میں ، ابتدا میں انسان جب بچہ ہوتا ہے، بچے کی پرورش میں بھی اس کے ماں باپ حصہ لیتے ہیں۔اس لحاظ سے وہ بھی رب کہلاتے ہیں۔پھر اس کے بعد بڑا ہوتا ہے اور دنیاوی کاموں میں پڑتا ہے۔افسران ہیں ، بادشاہ ہیں ہلکی سر براہ ہیں جو ایک طرح سے پرورش میں حصہ لیتے ہیں۔لیکن ان سب کی ربوبیت جو ہے وہ نقائص سے پُر ہے، کامل نہیں ہے۔ماں ہے جو سب سے زیادہ خالص ہو کر بچے کی پرورش کر رہی ہوتی ہے لیکن اس 686