نُورِ ہدایت — Page 685
رض بارے میں ایک روایت میں حضرت جویریہ بیان کرتی ہیں کہ صبح کی نماز کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گئے۔اس وقت میں مصلے پر بیٹھی تھی اور دن چڑھے جب آپ واپس آئے تو میں اس وقت بھی مصلے پر بیٹھی تھی اور ذکر کر رہی تھی اور تسبیح کر رہی تھی۔تو آپ نے پوچھا تم صبح سے اس حال میں یہاں بیٹھی کیا کر رہی ہو؟ میں نے عرض کی کہ میں تسبیح کر رہی ہوں۔اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہی ہوں۔آپ نے فرمایا اس کے بعد جب سے میں یہاں سے گیا ہوں اور اب آیا ہوں میں نے صرف چار کلمات تین دفعہ دہرائے ہیں۔اگر ان کلمات کا مواز نہ میں تمہارے اس سارے وقت کے ذکر اور تسبیح سے کروں تو میرے کلمے جو ہیں وہ بھاری ہیں۔جو یہ ہیں۔کہ سُبحانَ اللهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللهِ مِدَادَ كَلِمَاتِه۔(مسلم کتاب الذكر والدعاباب التسبيح اول النهار وعند النوم 6807: 6808) اللہ پاک ہے اس قدر جتنی اس کی مخلوق ہے۔اللہ پاک ہے جس قدر اس کی ذات یہ بات پسند کرتی ہے۔اللہ پاک ہے جس قدر اس کے عرش کا وزن ہے یعنی بے انتہا پاک ہے اور اللہ پاک ہے جس قدر اس کے کلمات کی سیاہی ہے۔ایک تو اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی سے آپ کی ازواج کی تسبیح وتحمید اور ذکر سے رغبت اور اس کے لئے کوشش کا پتا چلتا ہے کہ کس قدر انہماک سے اور کتنی دیر تک یہ دعائیں اور ذکر فرمایا کرتی تھیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تسبیح کا اندازہ ہوتا ہے۔آپ نے جس غور اور جس گہرائی سے یہ تسبیح کی اس کا اندازہ لگائیں کہ ایک لمبے عرصے میں جو کم از کم گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹے پر تو محیط ہوگا، اس میں آپ نے صرف تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے۔یہ تو آپ کا ہی مقام تھا۔لیکن توجہ دلائی کہ تسبیح ان جامع الفاظ میں کرو اور ساتھ ساتھ غور کرو۔اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کو سامنے رکھتے ہوئے تسبیح کرو۔پھر جب فتح مکہ ہوئی تو اس تسبیح اور شکر گزاری کا ایک اور انداز دیکھیں کہ اونٹنی پر بیٹھے ہیں۔685