نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 687 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 687

میں بھی کاملیت نہیں ہے، اس لئے اس کی پرورش میں کمیاں رہ جاتی ہیں۔کبھی بچے کو زیادہ کھلا دیا تو وہ بیمار ہو گیا۔کبھی خوراک کا خیال نہ رکھا تو کمز ور ہو گیا۔کبھی کسی اور طرف تو جہ ہوگئی تو بچے کی نگہداشت صحیح طرح نہ ہوسکی۔کبھی کسی چیز میں کمی رہ جاتی ہے، کبھی کسی چیز میں۔اسی طرح تمام دنیاوی افسران ہیں یا ملازمین کے مالک ہیں، وہ سب کمزور ہیں۔اور پھر وہ لوگ یہ تو چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے لیکن تعریف وہ کروانا چاہتے ہیں جس پر وہ کبھی پورا نہیں اترتے اور یوں اکثر جھوٹی تعریفیں اور خوش آمدیں کرنی پڑتی ہیں۔جس سے انسان کی طبیعت میں جھوٹی خوش آمدیں کر کے، تعریفیں کر کے بعض دفعہ منافقت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن رب اعلیٰ وہ ہے جو ہر عیب سے پاک ہے۔جس کی تعریف حقیقی ہے۔جس نے رحمانیت کے جلوے دکھاتے ہوئے بھی پرورش کے انتظام کئے ہیں۔اور جو رحیمیت کے جلوے دکھاتے ہوئے بھی اپنے بندوں کے لئے بے انتہا فضل نازل فرماتا ہے۔دعاؤں کو سنتا ہے، وہ مجیب بھی ہے۔غرض کہ اس کے بے انتہا اور بھی صفاتی نام ہیں جس کے مطابق وہ اپنے بندوں سے سلوک بھی کرتا رہتا ہے۔پس ایک مومن کو چاہئے کہ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (الاعلیٰ 2) پر عمل کرتے ہوئے اس کامل صفات والے اعلیٰ رب کی تسبیح کرتا رہے اور اس کی خیر کی تمام صفات سے حصہ لینے کی کوشش کرے اور اس کی ناراضگی اور پکڑ سے بچنے کی کوشش کرے۔ہر خیر کے ساتھ شر بھی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے تمام قسم کے شرور سے بچنے کی دعا کرنی چاہئے اور حقیقی تسبیح کرنے والے کو اللہ تعالیٰ یقیناً اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔قرآن کریم میں تسبیح کے ذکر میں جو بیان ہوا ہے اس میں نمازوں کو بھی تسبیح کے ساتھ ملایا گیا ہے۔یعنی نمازیں بھی ایک قسم کی تسبیح ہیں۔پس ان کی پابندی کرنا اور باقاعدگی سے ادا کرنا یہ بھی ضروری ہے۔تبھی تسبیح انتم ترتيك الأخلی کا صیح اوراک حاصل ہوگا۔پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے رب کے نام کو دنیا میں بلند کرنا۔اپنے رب کے نام کو دنیا میں بلند کرنا ، یہ بھی حکم ہے۔اس بارے میں جب سب سے اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو ہم دیکھتے ہیں تو اس کے بھی اعلیٰ ترین نمونے 687