نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 592 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 592

منہ سے اچھی باتیں نکالو تو اچانک وہ لوگ تمہارے دوست بن جائیں گے۔ویسے اچا نک کا لفظ موجود ہے۔فَإِذَا الَّذِی میں اچانک پن پایا جاتا ہے لیکن اس کا معنی اور ہے، وہ میں بعد میں بتاؤں گا۔غرض یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ ادھر تم نے منہ سے بات نکالی اور ادھر وہ تمہارے دوست بن گئے کیونکہ اچانک پن کا صبر سے کوئی جوڑ نہیں یعنی اس اچانک پن کا کہ ادھر تم نے کام شروع کیا ادھر نتیجہ نکل آیا اس کا صبر سے کیا تعلق ہے۔مگر قرآن کریم معابعد فرماتا ہے۔وَمَا يُلْقَاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا اس نتیجہ کو صبر کرنے والوں کے سوا کوئی حاصل نہیں کر سکتا۔پھر اچانک پن کا کیا مطلب ہے اور صبر کا مضمون کیا ہے؟ اب اس کو میں کھولوں گا تو بات سمجھ آجائے گی۔بات یہ ہے کہ ہر نصیحت کا رستہ ایک صبر آزما مشکل کا رستہ ہوتا ہے۔جب کوئی شخص کسی کو بلاتا ہے تو اس کے دوطریق ہیں۔یا تو اس شخص کے ساتھ آپ کی دوستی ہے اور یا دشمنی ہے۔اگر دوستی ہے تو زیادہ نصیحت کرنے کے نتیجہ میں دوستیاں بھی ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔آپ اپنے دوستوں کو بار بار نصیحت کر کے دیکھیں تھوڑی دیر کے بعد وہ کہنا شروع کردیں گے، کیا تم نے کان کھانے شروع کر دئیے ہیں یار چھوڑو بھی ، اب بس بھی کرو۔پھر زیادہ سختی کرنی شروع کریں گے تو وہ کہیں گے بند کرو یہ کیا رٹ لگائی ہوئی ہے۔پھر کہیں گے جاؤ جہنم میں ہمارا دین الگ ہے تمہارا الگ ہے۔ہم جو چاہیں کریں تم کون ہوتے ہو ہمیں نصیحتیں کرنے والے۔پس تجربہ کر کے دیکھ لیں اس طرح بظاہر الٹ نتیجہ نکلتا ہے یعنی آپ جتنی نصیحت کرتے ہیں اتنی دشمنیاں بڑھتی ہیں اور پھر انبیاء کے زمانہ میں تو یہ بہت شدت اختیار کر جاتی ہیں کیونکہ باوجود دوستی کے نصیحت کا مضمون بہت بلند ہو جاتا اور جس چیز کی طرف بلایا جاتا ہے وہ اتنی مختلف ہوتی ہے اس چیز سے جس پر وہ قومیں پائی جاتی ہیں کہ اس فاصلہ کے نتیجہ میں بھی بڑی شدت سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔592