نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 577 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 577

ہے جو انہیں تسلی دیتے ہیں، غم نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہیں اور خوف سے بے نیا ز ہو جانے کا پیغام دیتے ہیں۔وہ انہیں کہتے ہیں کہ ہم آئے تو ہیں لیکن تمہیں چھوڑ کر چلے جانے کے لئے نہیں بلکہ اب ہمیشہ ہم تمہارے ساتھ رہیں گے، اس دنیا میں بھی اور اس دنیا کی زندگی کے ختم ہو جانے کے بعد بھی۔میں نے مختصراً یہ بھی ذکر کیا تھا کہ یہ فرشتے مختلف صورتوں میں مختلف قسم کے درجات کے لوگوں کے لئے مختلف قسم کی خوشخبریاں لے کر آتے ہیں۔تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ یہ فرشتے کبھی تمثل اختیار کرتے ہیں اور ظاہری آنکھوں سے بھی نظر آنے لگتے ہیں۔کبھی یہ فرشتے خوابوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور خوابوں کے ذریعے جو پیغام دیتے ہیں وہ من وعن پورا ہو جاتا ہے۔کبھی یہ فرشتے سکینت بن کر دلوں پر نازل ہوتے ہیں اور ایک یقین کامل بن کر دلوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور جو دل میں بیٹھی ہوئی بات ہوتی ہے وہ مخالف حالات کے باوجو د لازما پوری ہو کر رہتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنگ بدر میں شریک ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خوشخبری کے مطابق مُسَومین فرشتے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی مدد کے لئے آئے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسومین کی یہ تفسیر فرمائی کہ یہ ایسے فرشتے ہیں جو معلوم ہو جائیں گے ان پر گویا نشان ہیں اور ان کی کچھ علامتیں ہیں۔چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں جو فرشتے دیکھے گئے ان کے سروں پر سیاہ پگڑیاں تھیں اور ان کی ایک یونیفارم تھی۔صحابہ نے جب ان فرشتوں کو مختلف حالتوں میں دیکھا تو اسی طرح سیاہ پگڑیاں انہوں نے پہنی ہوئی تھیں۔جب روایتیں اکٹھی ہوئیں تو وہ تعجب میں پڑ گئے۔مگر جیسا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسومین کی تفسیر فرمائی تھی ویسا ہی مقدر تھا اور بعینہ ایسا ہوا۔اسی طرح جنگ اُحد میں جو فرشتے دکھائی دیئے ان کے سروں پر بطور نشان سرخ پگڑیاں تھیں۔( الدر المنشورزیر آیت بلی ان تصبر و او تقوا۔۔آل عمران (126) سرخ رنگ میں کچھ غم کا پیغام بھی تھا کیونکہ جتنا دکھ صحابہ کو جنگ اُحد میں آنحضور صلی اللہ 577