نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 578 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 578

علیہ وآلہ وسلم کے زخموں کی وجہ سے پہنچا ویسا دکھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری زندگی میں کبھی صحابہ کو نہیں پہنچا۔ایک غم کے بعد دوسرے غم کی خبر ان کو ملی اور وہ غموں سے نڈھال ہو گئے۔پس اس غزوہ میں فرشتوں کی علامت کے لئے بھی ایک ایسا رنگ چنا گیا جس میں غم اور خون اور دکھ کا پہلو شامل ہے۔رض یہ فرشتے اجتماعی طور پر بھی صحابہ کو ان کی مدد کرتے ہوئے دکھائی دیئے اور انفرادی طور پر بھی ایسی حالت میں کہ ان کو پتہ نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے؟ چنانچہ جب حضرت عباس قیدی بنا کر لائے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا گیا کہ حضرت عباس کو قیدی بنانے والے ابوالیسر ہیں۔ابوالٹیسر ایک چھوٹے ، دبلے پتلے اور کمزور سے آدمی تھے۔( شاید ان کی کنیت میں بھی اسی طرف اشارہ تھا کیونکہ یسر کا معنی ہے آسانی اور ابوالئیسر کا مطلب یہ ہوا کہ یہ آسانی کا باپ ہے۔ہلکا پھلکا آسان سا آدمی ہے اور ہر شخص اس سے نپٹ سکتا ہے۔) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تعجب سے ابوالیسر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے ابوالٹیسر ! تم تو بہت کمزور اور ہلکے پھلکے آدمی ہو اور عباس بڑے مضبوط، بڑے توانا، لحیم شحیم اور بڑے جنگجو انسان ہیں۔مجھے بتاؤ کہ تم نے انہیں کس طرح قابو کیا ؟ تو ابوالٹیسر نے عرض کی یا رسول اللہ ! میں نے کہاں قابو کیا تھا؟ ایک بڑا مضبوط اور طاقتور آدمی آیا تھا جس نے ان کو پکڑا ، قابو کیا اور باندھ کر میرے سپرد کر دیا۔اس طرح میں ان کو لے کر آ گیا ہوں میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاذ را اس کی نشانیاں تو بتاؤ کہ وہ کس قسم کا آدمی تھا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ !انہ میں نے کبھی پہلے دیکھا اور نہ بعد میں دیکھا ہاں اس کی علامتیں یہ تھیں۔تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكَ گریم کہ ایک ملک کریم نے تمہاری مدد کی تھی۔ایک معزز فرشتہ تھا جسے خدا تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے بھیجا تھا۔( الخصائص الکبری جز اول صفحہ 202- تاریخ الخمیس لطیفہ فی استماع الطبيل بدر طبل الملوک جلد اول صفحه 390) 578