نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 576 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 576

وَلَا يَكْشِفُ الْغَمَّاءَ إِلَّا ابْنُ حُرَّة يرى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ ثُمَّ يَزُورُهَا ( جعفر بن علبة الحارثی ، دیوان الحماسہ ، صفحہ ۱۱) یعنی وہ مصائب یا وہ جگہیں جہاں موت کے تاریک مصائب ہجوم کر رہے ہوتے ہیں اور ان کے چہرے رات کی طرح سیاہ ہوتے ہیں ان مصائب کو کوئی ہٹا نہیں سکتا مگر آزاد ماں کا بیٹا جو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا ان کی طرف بڑھتا اور پھر ان میں داخل ہو جاتا ہے۔وہ ہر تاریکی کو نور اور روشنی میں تبدیل کر دیتا ہے اور ہر موت کو ایک زندگی عطا کرتا ہے۔پس یہ ہیں وہ لوگ جو رتبنا اللہ کہتے ہیں اور پھر اس دعویٰ پر استقامت اختیار کرتے ہیں، جن پر خدا کے فرشتے نازل ہوتے ہیں، جن کی ہر تاریکی نور میں تبدیل کی جاتی ہے اور پھر وہ تاریکی میں بسنے والے ہر شخص کو اسی نور کی طرف بلاتے ہیں۔ان کا ہر غم خوشی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے پھر وہ دنیا کی طرف بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آؤ ہم تمہارے غم بھی اٹھائیں اور انہیں خوشیوں میں تبدیل کریں۔یہ وہی لوگ ہیں کہ جن کو خوف ڈراتے ہیں لیکن وہ ان خوفوں سے خوف نہیں کھاتے بلکہ دنیا کے خوف ہٹانے کے لئے دنیا کی طرف بڑھتے ہیں۔یہ ہیں وہ داعی الی اللہ جو ہمیں بنا ہوگا کیونکہ دنیا ہزار قسم کی ظلمات کا شکار ہے، ہزار خوفوں میں مبتلا ہے، ہزار قسم کے حزن ہیں جو سینوں کو چھلنی کئے ہوئے ہیں۔پس اے احمدی! آگے بڑھ اور ان خوفوں کو دور کر، ان اندھیروں کو روشنی میں تبدیل کر دے اور ان غموں کو راحت و اطمینان میں بدل دے کیونکہ تیرے مقدر میں یہی لکھا گیا ہے۔خطبہ جمعہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرموده 4 فروری 1983ء۔خطبات طاہر جلد 2 صفحہ 63-74) اسی طرح حضور رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ فرموده 11 /فروری 1983ء میں فرمایا: میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں قرآن کریم کی اس خوشخبری کا ذکر کیا تھا کہ خدا تعالیٰ کے وہ بندے جو اس کی راہ میں استقامت دکھاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر بکثرت فرشتے نازل فرماتا 576