نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 570 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 570

کھڑے رہنے کی راہ میں روکیں ہوں اور اس کو ہر طرف سے دھکے پڑ رہے ہوں۔ویسے تو کوئی چیز کھڑی ہو تو اس کے لئے قام کا لفظ بولتے ہیں۔درخت کھڑے ہیں ان کی اس حالت کے متعلق بھی قامہ کا لفظ استعمال کریں گے۔انسان کھڑا ہو تو وہ بھی قائد کی حالت میں ہوتا ہے لیکن شدید آندھی میں بھی جو درخت قائم رہ جائے اس کے متعلق استقام کا لفظ استعمال کریں گے۔اسی طرح شدید زلازل میں بھی کوئی عمارت نہایت شان کے ساتھ سر بلند کھڑی رہے اور سرنگوں نہ ہو، اس کے متعلق بھی استقام کا لفظ بولیں گے۔اسی طرح شدید مشکلات اور مصائب میں کوئی انسان اپنے موقف پر قائم رہے اور ایک انچ بھی اس سے انحراف نہ کرے اس کے متعلق بھی انتقام کا لفظ ہی استعمال کریں گے۔اللہ تعالی کی طرف سے ہر قسم کے ابتلا ان لوگوں پر عائد کئے جاتے ہیں جو ربنا اللہ کا دعویٰ کرتے ہیں۔تقدیر خداوندی کی طرف سے ان کے امتحانات لئے جاتے ہیں۔ان پر ایسے اندرونی اور بیرونی ابتلا آتے ہیں جو حد کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ اسْتَقَامُوا کہ کوئی مصیبت، کوئی زلزلہ، کوئی قیامت ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں پیدا کر سکتی ، کوئی چیز ان کو اس راہ سے ہٹا نہیں سکتی جس پر یہ گامزن ہوتے ہیں اور اسی لیے ان کی راہ کا نام بھی مستقیم رکھا گیا اور مستقیم راہ پر قائم رہنے کے لئے یہ دعا سکھائی گئی اهْدِنَا القِيرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے بعد اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا یہ بتارہی ہے کہ ربنا اللہ یعنی اللہ کی عبادت کرنا اور کسی اور کی طرف منہ نہ کرنا ، اس دعویٰ کے نتیجے میں لازماً مشکلات پیدا ہوں گی اور اگر دعائیں نہیں کرو گے تو ان مشکلات میں ثابت قدم نہیں رہ سکو گے۔پس صراط مستقیم در اصل استقامت کی تشریح ہے یا استقامت صراط مستقیم کی تشریح ہے۔یہ دونوں ایک دوسرے پر روشنی ڈال رہے ہیں۔پس فرمایا کہ جب وہ استقامت اختیار کرتے ہیں تو ہم انہیں اس سے پہلے استقامت کا گر سکھا چکے ہوتے ہیں۔وہ اپنے زور بازو سے مستقیم نہیں رہ سکتے بلکہ ہم انہیں دعائیں سکھاتے ہیں۔وہ گریہ وزاری کے ساتھ ہماری طرف جھکتے ہیں اور اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی 570