نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 571 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 571

دعا جاری رہتی ہے۔اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ انہیں استقامت عطا فرماتا ہے۔پھر جب وہ استقامت دکھاتے ہیں تو ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟ فرمایاتتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ أَلا تخافُوا وَلَا تَحْزَنُوا یعنی بکثرت ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے نازل ہوتے ہیں أَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا کہ کوئی خوف نہ کرو، کوئی غم نہ کھاؤ۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ استقامت دکھانے والے لوگوں کو یہ فرشتے کہتے ہیں کہ کوئی غم نہ کھاؤ اور کوئی خوف نہ کرو حالانکہ غم کی وجوہات بھی نظر آتی ہیں اور خوف کی وجوہات بھی نظر آتی ہیں۔پھر اس پیغام کا کیا مطلب ہے کہ کوئی غم نہ کھاؤ اور کوئی خوف نہ کرو؟ کیونکہ استقامت خود ایسے حالات کی متقاضی ہوتی ہے جن کے نتیجے میں غم بھی پیدا ہوگا اور خوف بھی پیدا ہو گا۔مثلاً اگر کسی ایسے انسان کو جسے نقصان پہنچا ہو آپ کہہ دیں کہ غم نہ کرو تو اس سے اس کا غم کس طرح دُور ہو گا؟ یا اگر خوف کے مقام پر آپ یہ اعلان کر دیں کہ خوف نہ کرو تو اس سے خوف کس طرح زائل ہوسکتا ہے؟ اس لئے دیکھنا یہ ہے کہ وہ فرشتے ایسی باتیں کر کے ان کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہوتے ہیں یا یہ پیغام کوئی اور معنی رکھتا ہے؟ لیکن اس سے پہلے کہ ہم اس مضمون میں داخل ہوں، ہم استقامت کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔استقامت کے سلسلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں اور ساتھیوں نے جو عظیم الشان نمونے دکھائے ، تاریخ اسلام ان واقعات سے روشن ہے اور ہمیشہ روشن رہے گی۔وہ واقعات ایسی روشنائی سے لکھے گئے ہیں کہ جن کی چمک کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔۔۔اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی عظیم احسان ہے کہ اس نے جماعت احمد یہ کو بھی ان درخشندہ مثالوں کی پیروی کی توفیق بخشی اور بخشتا چلا جا رہا ہے۔تاریخ احمدیت اس دور سے گزررہی ہے اور بن رہی ہے اور بنتی رہے گی اور انشاء اللہ تعالیٰ احمدی کبھی بھی اپنے ایمان کی صداقت پر حرف نہیں آنے دیں گے۔ان کی آواز ہمیشہ یہی رہے گی اور صرف صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کی آواز نہیں ہوگی بلکہ ہزاروں ، لاکھوں، 571