نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 569 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 569

ہیں اور کتنی ہی ان گنت را ہیں ہیں جو دنیا والوں کے لئے کھلی ہیں مگر ربنا اللہ کہنے والوں نے ان سب راہوں سے منہ موڑ لیا اور پھر خرچ کی راہوں میں اپنے لئے ایسی راہیں تجویز کیں کہ وہ پاکیزہ رزق جو بظاہر تنگ رستوں سے انہیں حاصل ہوتا ہے اور دنیا کے مقابل پر ان کی آمد کے وسائل بہت محدود نظر آتے ہیں، اپنی اس قلیل آمد کو بھی وہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے لگ گئے اور دعویٰ یہ ہے کہ ربنا الله اللہ ہمارا رازق ہے۔یہ وہ اندرونی آزمائش ہے جس میں سے یہ لوگ گزرا کرتے ہیں اور اسی کا نام استقامت ہے کہ اپنے دعوی کو سچا ثابت کر کے دکھاتے ہیں اور ہر قسم کے مصائب کو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں اور کسی قسم کا خوف نہیں کھاتے اور یقین رکھتے ہیں کہ وہی رازق ہے اور اسی سے ساری برکتیں حاصل ہوتی ہیں اور اسی کے نام پر خرچ کرنے میں دراصل رزق کی برکتوں کی چابی رکھی گئی ہے۔اس یقین کے ساتھ وہ استقامت اختیار کرتے ہیں۔پھر ایک بیرونی ابتلا ان پر آتا ہے۔باہر کی دنیا کہتی ہے کہ اچھا اگر تم اللہ کو ہی رب سمجھ رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ وہی تمہارے رزق کا انتظام کرتا ہے اور وہی تمہیں بچاتا ہے تو تمہاری اندرونی قربانی کافی نہیں، ہم بھی کچھ حصہ ڈالیں گے۔یعنی کچھ تمہاری دوکانیں ہم لوٹیں گے، کچھ تمہاری جائیداد میں ہم برباد کریں گے، کچھ جائز ورثوں سے تمہیں ہم محروم کر دیں گے، کچھ جائز ترقیات سے تمہیں ہم عاری کر دیں گے اور ان کے رستے میں روکیں کھڑی کر دیں گے، کچھ حصول تعلیم کے حق تم سے چھین لیں گے اور وہ تعلیم جو تمہارے رزق کا ذریعہ ہے ، ہم حتی المقدور کوشش کریں گے کہ تم اس تعلیم میں قدم آگے نہ بڑھا سکو۔غرض یہ کہ ہر قسم کی مشکلات جو رزق کے حصول کے رستے میں حائل کی جاسکتی ہیں وہ تمہاری راہ میں حائل کریں گے پھر دیکھیں گے کہ تم کس شان کے ساتھ اور کس یقین کے ساتھ ربنا اللہ کہتے ہو۔یہ استقامت کا دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے۔استقامت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز ایسی حالت میں بھی کھڑی رہے کہ جب اس کے 569