نُورِ ہدایت — Page 568
یعنی جسمانی اور روحانی ، دونوں غذا ئیں ہمیں اپنے رب سے ملتی ہیں اور وہ ہمیں کافی ہے۔اس کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور رب کی ضرورت نہیں۔اگر آپ اس دعویٰ پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ایک طرف تو یہ دعویٰ کلیہ اللہ پر انحصار کر دیتا ہے اور دوسری طرف کلیۃ غیر اللہ سے مستغنی بھی کر دیتا ہے۔ربنا اللہ کا دعویٰ کرنے والوں پر کئی قسم کے ابتلا آتے ہیں جن کے نتیجے میں انہیں استقامت دکھانی پڑتی ہے۔کچھ تو اندرونی ابتلا ہیں اور کچھ بیرونی ابتلا۔اندرونی طور پر تو یہ قوم تربیت کے ایسے مشکل رستوں سے گزرتی ہے کہ قدم قدم پر ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ جس رب کے پیچھے تم چل رہے ہو اس کے نتیجے میں تو تمہارا رزق کم کیا جائے گا اور تم مشکلات اور مصیبتوں میں مبتلا کئے جاؤ گے۔تم عجیب پاگل قوم ہو کہ بڑی محنت کے ساتھ اپنی حکمتوں کو استعمال کرتے ہوئے اور اپنی جسمانی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے تم روپیہ کماتے ہو اور پھر اس روپے کو از خود خدا کے نام پر خرچ کر دیتے ہو اور دعویٰ یہ ہے کہ ربنا الله، اللہ ہمارا رب ہے۔اچھا اللہ تمہارا رب بنا کہ پہلے حال سے بھی بدتر ہو گئے۔دنیا کمانے والے جو تمہارے بھائی بند ہیں وہ تو کمانے کے رستے بھی زیادہ رکھتے ہیں اور خرچ بھی خالصتاً اپنی ذات پر کرتے ہیں۔ان کا رزق زیادہ بابرکت ہے یا تمہارا جن کی آمد کے رستے تنگ ہیں اور خرچ کے رستے زائد ہو گئے اور تم ایسی جگہ بھی خرچ کرنے لگے جس کے نتیجے میں تمہیں کوئی ذاتی فائدہ نہیں پہنچتا۔اب دیکھیں کتنا بڑا ابتلا ہے کہ ربنا اللہ کہنے والوں نے جھوٹ کی کمائی کے رستے اپنے اوپر بند کردئیے۔ربنا اللہ کہنے والوں نے رشوت کی کمائی کے رستے بند کردئیے۔ربنا الله کہنے والوں نے ظلم کے ذریعے ہتھیائی ہوئی جائیداد میں حاصل کرنے کے رستے اپنے او پر بند کر دئیے۔ربنا اللہ کہنے والوں نے تکڑی کے تول میں خرابی کے ذریعے زیادہ آمدن پیدا کرنے کے رستے بند کر دئیے۔ربنا اللہ کہنے والوں نے چوری کے رستے بند کئے، ڈاکے کے رستے بند کئے اور دھو کے کے رستے بند کئے۔باقی دنیا کے لئے رزق کے کتنے ہی رستے کشادہ 568