نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 567 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 567

حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 14 فروری 1983ء ء میں سورة لحم السجدة کی آیات 31 تا 33 کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم نے جہاں داعی الی اللہ کی تعریف فرمائی ہے اس سے پہلے وہ پس منظر بھی بیان فرمایا ہے جو اس جماعت کا پس منظر ہے جس میں سے داعی الی اللہ نکلتے ہیں اور ان حالات پر بھی روشنی ڈالی ہے جن حالات کے باوجود یا جن حالات کے نتیجے میں داعی الی اللہ پیدا ہوتے رہتے ہیں۔چنانچہ جو آیات میں نے ابھی تلاوت کی ہیں ان میں اسی مضمون کو تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ داعی الی اللہ کون ہیں اور کن لوگوں میں سے نکلتے ہیں۔چنانچہ ان کے متعلق فرمايا إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس دعویٰ پر استقامت اختیار کرتے ہیں۔جہاں تک ربنا اللہ کے دعویٰ کا تعلق ہے اس کے ساتھ بظاہر تو استقامت کی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ کیوں اس دعویٰ کی وجہ سے استقامت اختیار کرنے کی ضرورت پیش آئے۔اس لئے کہ سب لوگوں کا رب اللہ ہے اور فی ذاتہ محض یہ دعوی کرنا کہ اللہ ہمارا رب ہے بظاہر دشمنیوں کو انگیخت نہیں کرتا اور کوئی عقلی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ اس دعویٰ کے نتیجے میں دنیا ایسے لوگوں پر کیوں مصیبتیں برپا کرے گی جن کی وجہ سے استقامت کا سوال پیدا ہوگا۔لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو ربنا اللہ کہتے ہیں ان کا انداز عام دنیا کے ربنا اللہ کہنے والوں سے مختلف ہوتا ہے۔ان کے اندر زیادہ سنجیدگی پائی جاتی ہے، ان کے اندر زیادہ خلوص پایا جاتا ہے اور ربنا اللہ کا دعویٰ ان کے اعمال میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر دیتا ہے کہ یہ لوگ عام دنیا کے لوگوں سے کچھ مختلف شکلیں اختیار کر جاتے ہیں۔ربنا الله کا معنی ہے، اللہ ہمارا رب ہے۔وہی ہے جس نے پیدا کیا، وہی ہے جو پرورش کرتا ہے، وہی ہے جو تربیت دے کر آگے بڑھاتا ہے۔مربی بھی ہمارا وہی ہے اور پالن ہار بھی وہی۔اسی سے ہم دنیا کے رزق حاصل کرتے ہیں اور اسی سے روحانی رزق حاصل کرتے ہیں۔567