نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 496 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 496

اور نچوڑنے کو کہتے ہیں۔جب حالت اور بھی نازک ہو جاتی ہے اور فرد قرار داد جرم لگ جاتی ہے تو یاس اور نا امیدی بڑھتی ہے کیونکہ اب خیال ہوتا ہے کہ سزا مل جاوے گی یہ وہ وقت ہے جو مغرب کی نماز کا عکس ہے۔پھر جب حکم سنایا گیا اور کنسٹیبل یا کورٹ انسپکٹر کے حوالہ کیا گیا تو وہ روحانی طور پر نما ز عشاء کی عکسی تصویر ہے۔یہاں تک کہ نماز کی صبح صادق ظاہر ہوئی اور اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ( الم نشرح 7) کی حالت کا وقت آ گیا تو روحانی نماز فجر کا وقت آ گیا اور فجر کی نما ز اس کی عکسی تصویر ہے۔“ رپورٹ جلسہ سالانہ 1897، صفحہ 167،166) وَقُلْ جَاءَ الْحَقُ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا حمد کئی مقام قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم الوہیت ہیں اور ان کا کلام خدا کا کلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور ان کا آنا خدا کا آنا ہے چنانچہ قرآن شریف میں اس بارے میں ایک یہ آیت بھی ہے قُل جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - کہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے بھا گنا ہی تھا۔حق سے مراد اس جگہ اللہ جل شانہ اور قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور باطل سے مراد شیطان اور شیطان کا گروہ اور شیطانی تعلیمیں ہیں۔سو دیکھو اپنے نام میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکر شامل کرلیا اور آنحضرت کا ظہور فرمانا خدا تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہوا ایسا حلالی ظہور جس سے شیطان معہ اپنے تمام لشکروں کے بھاگ گیا اور اس کی تعلیمیں ذلیل اور حقیر ہوگئیں اور اس کے گروہ کو بڑی بھاری شکست آئی۔اسی جامعیت تامہ کی وجہ سے سورۃ آل عمران جزو تیسری میں مفصل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد واقرار لیا گیا کہ تم پر واجب ولازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان خاتم الرسل پر جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو۔اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمتہ اللہ جس 496