نُورِ ہدایت — Page 497
قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 277 280 حاشیہ) كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِه یعنی هر یک شخص اپنی فطرت کے موافق عمل کرتا ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 289 حاشیہ) حمد ہر ایک اپنے قومی اور اشکال کے موافق عمل کرنے کی توفیق دیا جاتا ہے۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد 6 صفحه (279) ہر شخص اپنے مادہ اور فطرت کے مطابق عمل کر رہا ہے۔(ماخوذ از حقائق الفرقان) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (مکتوبات جلد 5 نمبر 5 صفحہ (201) دُلُوك دَلكَتِ الشَّمْسُ دُلُوا غَرَبَتْ - سورج غروب ہو گیا اصفرت۔سورج زرد ہو گیا۔وَقِيلَ مَالَتْ وَزَالَتْ عَنْ كَبِدِا السَّمَاءِ - بعض نے کہا ہے کہ دَلكَتِ الشَّمسُ کے معنی سورج ڈھلنے کے ہیں (اقرب) غَسَق: غَسَقَتْ عَيْنُهُ غَسُوْقًا دَمَعَتْ وَقِيلَ انْصَبَّتْ وَقِيلَ أَظْلَبَتْ۔اس کی آنکھ ڈبڈبا آئی۔بعض محققین لغت کے نزدیک اس کے معنی آنکھ کے بہنے یا آنکھ پر تاریکی چھا جانے کے ہوتے ہیں غَسَقَ الَّيْلُ غَسَقَا اشْتَدَّ ظُلمته یعنی رات سخت تاریک ہوگئی۔الْغَسْقُ ظُلْمَةُ أَوَّلِ اللَّيْلِ اَو دَخُولُ أَوَّلِهِ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلامُ غسق رات کے پہلے حصے کی تاریکی کو کہتے ہیں یارات کی ابتداء میں تاریکی شروع ہونے کو غسق کہتے ہیں (اقرب) مَشْهُودًا : یہ شہد سے اسم مفعول کا صیغہ ہے۔شھد کا لفظ کسی جگہ پر ظاہر ہونے اور اس پر اطلاع پانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔کہتے ہیں شَهِدَ الْمَجْلِس شُهُودًا حَضَرَهُ وَاطَّلَعَ عَلَيْهِ کہ وہ مجلس میں حاضر ہوا۔اور اس نے اسے دیکھا۔شهِدَ اللهُ۔آمی 497