نُورِ ہدایت — Page 495
آنے والی بلاؤں کا علاج ہے تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کے قضا و قدر تمہارے لئے لائے گا پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرر ع کرو کہ تمہارے لئے خیر و برکت کا دن چڑھے۔“ (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 68-70) یا درکھو کہ یہ جو پانچ وقت نماز کے لئے مقرر ہیں یہ کوئی حکم اور جبر کے طور پر نہیں بلکہ اگر غور کرو تو یہ در اصل روحانی حالتوں کی ایک عکسی تصویر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آرقم الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمس یعنی قائم کر نماز کو دُلُوكِ الشَّمس سے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہاں قیام صلوۃ کو دُلُوكِ الشَّمس سے لیا ہے۔دُلُوك کے معنوں میں گو اختلاف ہے لیکن دو پہر کے ڈھلنے کے وقت کا نام دُلُوك ہے۔اب دُلُوك سے لے کر پانچ نمازیں رکھ دیں اس میں حکمت اور سر کیا ہے۔قانون قدرت دکھاتا ہے کہ روحانی تذلل اور انکسار کے مراتب بھی ڈکوٹ ہی سے شروع ہوتے ہیں اور پانچ ہی حالتیں آتی ہیں۔پس یہ طبعی نما ز بھی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب محزن اور ہم و غم کے آثار شروع ہوتے ہیں۔اس وقت جبکہ انسان پر کوئی آفت یا مصیبت آتی ہے تو کس قدر تذلل اور انکساری کرتا ہے۔اب اس وقت اگر زلزلہ آوے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ طبیعت میں کیسی رقت اور انکساری پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح پر سوچو کہ اگر مثلاً کسی شخص پر نایش ہو تو سمن یا وارنٹ آنے پر اس کو معلوم ہوگا کہ فلاں دفعہ فوجداری یاد یوانی میں نالش ہوتی ہے۔اب بعد مطالعہ وارنٹ اس کی حالت میں گویا نصف النہار کے بعد زوال شروع ہوا۔کیونکہ وارنٹ یا سمن تک تو اسے کچھ معلوم نہ تھا۔اب خیال پیدا ہوا کہ خدا جانے ادھر وکیل ہو یا کیا ہو؟ اس قسم کے ترڈدات اور تفکرات سے جو زوال پیدا ہوتا ہے یہ وہی حالت ذلوک ہے اور یہ پہلی حالت ہے جو نمازظہر کے قائم مقام ہے اور اس کی عکسی حالت نماز ظہر ہے۔اب دوسری حالت اس پر وہ آتی ہے جبکہ وہ کمرہ عدالت میں کھڑا ہو۔فریق مخالف اور عدالت کی طرف سے سوالات جرح ہورہے ہیں اور وہ ایک عجیب حالت ہوتی ہے۔یہ وہ حالت اور وقت ہے جونمازعصر کا نمونہ ہے کیونکہ عصر گھوٹنے 495