نُورِ ہدایت — Page 421
گئے؟ اور اگر اچھی چیز ہے تو اس اُمت سے کیوں نہ لیا جائے ؟ بلکہ اس کے کامل امت ہونے کی وجہ سے تو ضروری ہے کہ اس کے ہر فرد سے عہد لیا جائے۔سو یا د رکھنا چاہیے کہ لا تخیل عَلَيْنَا إِخترا کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم سے کوئی عہد ہی نہ لیا جائے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ اے ہمارے رب ! آپ ہم سے جو عہد لیں اُس کے متعلق ہمیں توفیق بھی عطا فرمائیں کہ ہم اس کے مطابق عمل کریں اور پہلی قوموں کی طرح عہد شکن اور غذار قرار نہ پائیں۔گویا یہ دعا عہد سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ عہد کی ذمہ داریوں پر باحسن طریق عمل پیرا ہونے کے لئے ہے۔(3) اضر کے ایک معنے بوجھ کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے اس کے معنے یہ ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر بوجھ ڈالا۔اس کے یہ معنے نہیں کہ ہمیں اتنی نمازیں پڑھنے کو نہ بتا کہ جو ہم پڑھ نہ سکیں کیونکہ خدا تعالیٰ پہلے ہی فرما چکا ہے کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے جو حکم آتے ہیں وہ انسان کی طاقت اور اُس کی توفیق کے مطابق ہوتے ہیں۔پس اس کے یہ معنی نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ بعض جرائم کی بنا پر پہلے لوگوں کے لئے جو سزائیں نازل کی گئی تھیں وہ سزائیں ہم پر نازل نہ ہوں اور ہم سے وہ غلطیاں سرزد نہ ہوں جو پہلے لوگوں سے سرزد ہوئیں اور جن کی وجہ سے وہ تباہ کر دیئے گئے۔انہوں نے تیری نافرمانیاں کیں اور تیرے احکام کے خلاف انہوں نے قدم اٹھایا جس کی وجہ سے اُن پر ایسی حکومتیں مسلط ہوئیں اور ایسے قوانین اُن کے لئے مقرر کر دئیے گئے جو ان کے لئے ناقابل برداشت تھے۔تو ہمیں اپنے فضل سے ایسے مقام پر کھڑا کیجیو کہ ہم سے ایسی خطائیں سرزد نہ ہوں اور ہمیں ایسی سزائیں نہ ملیں جو ہمارے نفس کی طاقت برداشت سے باہر ہوں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ نفس کی طاقت برداشت کے مطابق اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی سزا ملے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ہر روحانی سزا انسان کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔یہ انسان کی رذالت ہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ایسی سزا کو برداشت کر لیتا ہے ورنہ اگر شرافت نفس ہو تو چھوٹی سے چھوٹی سزا بھی 421