نُورِ ہدایت — Page 420
اور ہمیں اس غلطی سے محفوظ رکھ۔أَو أخطأنا اور یا الہی یہ بھی نہ ہو کہ جو کام ہمیں نہیں کرنا چاہئے وہ ہم کرلیں۔یا ہم کریں تو وہی جو ہمیں کرنا چاہئے مگر غلط طریق پر کریں۔پس نسیان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کام کرنے تھے وہ انسان سے رہ جائیں اور خطا کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو کام نہیں کرنے چاہئے تھے وہ کر لئے جائیں۔یا جن کاموں کا کرنا ضروری تھا وہ غلط طور پر کئے جائیں۔غرض نسیان عدم عمل کا نام ہے اور خطا عمل کی خرابی کو کہتے ہیں۔اسی لئے یہاں دو لفظ استعمال کئے گئے ہیں۔پس اس میں سے کوئی لفظ بھی زائد نہیں بلکہ ہر لفظ اپنی اپنی جگہ ضروری ہے۔نسیان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے آدم علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَنَسِي وَلَمْ نَجِدُ لَهُ عَزما (طه 116) یعنی آدم بھول گیا لیکن ہم نے بھی دیکھ لیا کہ اس کے دل میں ہمارا حکم توڑنے کے متعلق کوئی ارادہ نہ تھا۔پھر فرماتا ہے رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا یعنی مومن یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ اے خدا ہم پر اس طرح ذمہ داری نہ ڈالیو جس طرح تو نے اُن لوگوں پر جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں ڈالی تھی۔اختر کے ایک معنی چونکہ گناہ کے ہیں اس لئے اس دعا کا ایک مفہوم یہ ہے کہ اے خدا! تو ہم پر اس طرح گناہ نہ ڈال جس طرح تو نے پہلی قوموں پر ڈالا۔یعنی ہمیں اُن اعمال سے اپنے فضل سے محفوظ رکھ جن کے نتیجہ میں ہماری طرف گناہ منسوب ہوں۔اور دنیا میں ہمیں ظالم اور روسیاہ قرار دیا جائے اور طرح طرح کے عیوب ہماری طرف منسوب کئے جائیں جیسا کہ پہلی قوموں کے ساتھ ہوا۔اضر کے دوسرے معنی عھد کے ہیں اس لحاظ سے لَا تَحْمِلُ عَلَيْنَا إِصْرًا کے معنی یہ ہیں کہ الہی ہم سے کوئی ایسا عہد نے لیجیئو جس کو توڑ کر ہم تیری سزا کے مستوجب ہوں جس طرح پہلی قومیں سزا کی مستوجب ہوئیں۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عہد لینا بُری چیز تھی تو پھر دوسری امتوں سے کیوں لئے 420