نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 414 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 414

انسان بڑا بدمعاش اور شریر ہے۔ایسے لوگوں کے متعلق ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ پاکیزہ ہیں بلکہ یہ کہیں گے کہ وہ اپنے گند کو چھپائے بیٹھے ہیں۔پس اسلام میں پاکیزگی دل کی ہے۔اعمال اور زبان تو آلات اور ذرائع ہیں جن سے پاکیزگی ظاہر ہوتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ دل کی حالت بھی محاسبہ کے نیچے آتی ہے۔خواہ تم اپنے دل کی حالت کو چھپاؤ یا ظاہر کرو۔یہاں خدا تعالیٰ نے کیا عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے کہ زبان اور اعمال تو دلی حالت کا اظہار کرتے ہیں اصل چیز دل کی حالت ہے اور خدا تعالیٰ اس کا محاسبہ کرے گا۔پس فرماتا ہے کہ تم اپنی دلی حالت کو ظاہر کر دیا چھپاؤ یعنی تم گندے اعمال نہ کرو یا زبان سے ظاہر نہ کر ومگر تمہارے دل میں گند ہے تو ضرور پکڑے جاؤ گے۔يُحاسِبكُم به الله میں باء کے تین معنے ہو سکتے ہیں۔(1) ایک معنی ذریعہ اور سبب کے ہو سکتے ہیں۔اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ تم سے حساب لے گا۔یعنی تمہارے اعمال کی بنیاد دل پر رکھی جائے گی۔صرف ظاہری اعمال کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ دل کی حالت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔اور تمہاری نیتوں کو بھی دیکھا جائے گا۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ اتما الاعمال بالنیات یعنی اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہوتا ہے۔پس اعمال کے ساتھ دل کی نیت کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔(2) دوسرے معنے اس کے فی کے ہو سکتے ہیں یعنی اس کے بارے میں۔“ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں آتا ہے کہ لا يُؤَاخِذُ كُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي ايْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُ كُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ (سورة بقرة 226) (3) تیسرے معنی اس کے علی کے ہو سکتے ہیں۔یعنی اس جرم پر اللہ تعالیٰ تم سے حساب لے گا۔يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ میں بتایا کہ جیسی جیسی انسان کی نیت ہوئی ویسی ہی اس کی جزا ہوگی۔سزا کے مستحق سزا پائیں گے اور جو مغفرت کے مستحق ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں اپنے دامن مغفرت میں لے لے گا۔66 414