نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 413 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 413

سخت مشکل ہو جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی چلتے چلتے ہیں مال دیکھتا ہے اور اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میں اسے اُٹھالوں تو صرف اس خیال کے آنے پر اُس سے مواخذہ نہیں ہوگا۔ہاں اگر اسی خیال کے آنے پر وہ سوچنا شروع کر دے کہ میں کس طرح اس مال کو اٹھاؤں اور کس وقت اٹھاؤں تو اس کا یہ سوچنا اور تدبیریں کرنا قابل مؤاخذہ ہوگا۔غرض وہ خیال جو دل میں گڑ جاتا ہے اور جس کو سوچنے میں انسان لگ جاتا ہے اور تدبیریں شروع کر دیتا ہے اس کا محاسبہ ہوگا۔ورنہ اگر کسی کو خیال آئے کہ میں چوری کروں۔اور وہ اُسے فوراً اپنے دل سے نکال دے تو وہ ایک نیکی کرتا ہے۔اسی طرح اگر کسی کو قتل کرنے کا خیال آئے لیکن وہ اسے اپنے دل سے نکال دے تو وہ نیکی کرنے والا سمجھا جائے گا۔سزا کا مستحق وہ اسی حالت میں ہوتا ہے جب وہ اس خیال پر قائم رہتا ہے۔غرض تزکیۂ نفس کی بنیاد انسانی قلب کی صفائی پر ہے۔اور اس کی اہمیت رسول کریم علی شمالی نے ایک اور جگہ بھی بیان فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فسد الجسد كله الا وَهِيَ الْقَلْبُ یعنی انسان کے بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔جب وہ تندرست ہوتا ہے تو سارا جسم تندرست ہوتا ہے۔اور جب وہ بگڑ جاتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔غور کے ساتھ سنو کہ وہ گوشت کا ٹکڑا دل ہے۔پس اسلام میں پاکیزگی اس کا نام نہیں کہ صرف زبان پر اچھی باتیں ہوں۔یا اعمال تو اچھے ہوں اور دل میں برائی ہو۔بلکہ اسلام میں اصل پاکیزگی دل کی سمجھی جاتی ہے۔جو انسان اپنے دل کے لحاظ سے پاکیزہ نہیں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہرگز پاک نہیں۔ایک شخص اگر قطعاً کوئی گناہ نہ کرے۔مگر اس کے دل میں گناہ اور برائی سے اُلفت ہو اور گناہ کے ذکر میں اسے لذت محسوس ہو تو وہ نیک اور پاک نہیں کہلائے گا۔جب تک کہ اس کے دل میں بھی یہ بات نہ ہو کہ اسے گناہوں میں ملوث نہیں ہونا چاہئے۔اسی طرح کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ عادت کے ماتحت انہیں غصہ آجاتا ہے مگر گالی نہیں دیتے۔لیکن ان کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ فلاں 413