نُورِ ہدایت — Page 415
سورۃ بقرہ کے شروع میں رسول کریم علی کے چار عظیم الشان کاموں کا ذکر کیا گیا تھا۔اوّل۔تلاوت آیات۔دوم تعلیم کتاب۔سوم تعلیم حکمت۔چہارم - تزکیۂ نفوس۔آپ کے ابتدائی تین کاموں پر اس سورۃ میں تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے۔اب صرف يُز ٹیم کے وعدہ کا ایفاء باقی تھا۔سو اس رکوع میں اس شق پر بھی روشنی ڈال دی۔ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ تزکیہ نفوس کا کام کسی انسان کے بس کا نہیں۔آخر والدین سے زیادہ محبت کرنے والا اور کون وجود ہوسکتا ہے مگر وہ بھی اپنی اولاد کا تزکیۂ نفس نہیں کر سکتے۔تزکیہ میں دو باتیں ضروری ہوتی ہیں۔اول ترک گناہ۔دوم روحانیت میں ترقی۔ترک گناہ کے لحاظ سے فرمایا کہ ہم تم کو تعلیم دیتے ہیں کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور آسمان وزمین اور کائنات کا ذرذرہ سب اللہ تعالیٰ کے ماتحت ہے۔پس جس چیز کے لینے کی وہ اجازت دے صرف وہی تم لو اور جس سے منع کرے اُس سے رُک جاؤ۔کیونکہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی چیز کو استعمال کرنے والا مستوجب سزا قرار پاتا ہے۔دوسری شق روحانیت میں ترقی کرنا تھا۔اس کے لئے فرمایا کہ سب کچھ ہمارا ہے۔اور ہمارے ہی ذریعہ سے ہر قسم کی خیر و برکت مل سکتی ہے۔اس لئے جب تم ہمارے حکموں کی اطاعت کرو گے تو ہم تم کو اپنی مغفرت کے دامن میں لے لیں گے۔اور ہمارا قادرا نہ تصرف تمہیں ہمارے قرب میں پہنچا دے گا۔أمَنَ الرَّسُولُ مَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَ مَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ۔وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ اس آیت میں تزکیہ نفوس کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ پر اس کے ملائکہ پر اس کی کتابوں پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا مومن کا شعار قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جب تک عقیدہ اور عمل دونوں کی اصلاح نہ ہو انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔مگر افسوس ہے کہ اتنی واضح آیت کے باوجود بعض لوگ یہ خیال کرتے 415