نُورِ ہدایت — Page 401
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سورة البقرہ کی آیت 286 درج کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یعنی رسول اور اُس کے ساتھ کے مومن اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جو اُن پر نازل کی گئی اور ہر ایک خدا پر ایمان لایا اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اُس کے رسولوں پر اور اُن کا یہ اقرار ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے اس طرح پر کہ بعض کو قبول کریں اور بعض کورڈ کردیں بلکہ ہم سب کو قبول کرتے ہیں۔ہم نے سنا اور ایمان لائے۔اے خدا! ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف ہی ہماری بازگشت ہے۔ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف ان تمام نبیوں کا ماننا جن کی قبولیت دنیا میں پھیل چکی ہے مسلمانوں کا فرض ٹھہراتا ہے اور قرآن شریف کی رُو سے ان نبیوں کی سچائی کے لئے یہ دلیل کافی ہے کہ دنیا کے ایک بڑے حصہ نے اُن کو قبول کیا اور ہر ایک قدم میں خدا کی مدد اور نصرت اُن کے شامل حال ہو گئی۔خدا کی شان اس سے بلند تر ہے کہ وہ کروڑ با انسانوں کو اُس شخص کا سچا تابع اور جان نثار کرے جس کو وہ جانتا ہے کہ خدا پر افترا کرتا ہے اور دنیا کو دھوکا دیتا ہے اور دروغ گو ہے۔اور اگر کاذب کو ایسی ہی عزت دی جائے جیسا کہ صادق کو تو امان اُٹھ جاتا ہے اور امر نبوت صادقہ مشتبہ ہو جاتا ہے۔پس یہ اصول نہایت صحیح اور سچا ہے کہ جن نبیوں کو قبولیت دی جاتی ہے اور ہر ایک قدم میں حمایت اور نصرت الہی اُن کے شامل حال ہو جاتی ہے وہ ہر گز جھوٹے ہوا نہیں کرتے۔ہاں! ممکن ہے کہ پیچھے آنے والے اُن کے نوشتوں میں تحریف تبدیل کردیں اور اپنی نفسانی تفسیروں سے اُن کے مطالب کو الٹادیں بلکہ پرانی کتابوں کے لئے یہ بھی ایک لازمی امر ہے کہ مختلف خیالات کے آدمی اپنے خیال کے طور پر اُن کے معنی کرتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ وہی 401